قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْكَفَّارَاتِ (بَابُ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

2109 .   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزَّعْرَاءِ عَمْرُو بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَمِّهِ أَبِي الْأَحْوَصِ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْجُشَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَأْتِينِي ابْنُ عَمِّي فَأَحْلِفُ أَنْ لَا أُعْطِيَهُ، وَلَا أَصِلَهُ، قَالَ: «كَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: کفارے سے متعلق احکام و مسائل 

  (

باب: جس نے کوئی قسم کھائی پھر اسے دوسری صورت بہتر معلوم ہوئی

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

2109.   حضرت عوف بن مالک جشمی ؓ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے والد (حضرت مالک بن نضلہ جشمی ؓ) سے روایت کی، انہوں نے فرمایا: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس میرا چچا زاد بھائی آتا ہے (کسی بات پر ناراض ہو کر) میں قسم کھا لیتا ہوں کہ اسے کچھ نہیں دوں گا، نہ اس سے صلہ رحمی کروں گا۔ آپ نے فرمایا: اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دو۔