Ibn-Majah:
The Book of the Sunnah
(Chapter: He Who Conveys Knowledge)
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
ترجمۃ الباب:
232.
حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اس شخص کو خوش رکھے، جس نے ہماری کوئی بات سنی، پھر اسے ( دوسروں تک) پہنچایا، بعض اوقات جسے حدیث پہنچائی جاتی ہے، وہ ( براہ راست) سننے والے سے زیادہ یاد رکھنے والا ہوتا ہے۔‘‘
تشریح:
(1) حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نام کے متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے احادیث مروی ہیں۔ اس حدیث کے راوی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں۔ جب صرف عبداللہ (صحابی) لکھا ہو تو مراد عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہی ہوں گے۔ (2) اس حدیث میں بشارت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے بعد بھی ہر دور میں حفاظ حدیث موجود رہیں گے اگرچہ ان کی تعداد کسی دورمیں بہت زیادہ اور کسی دور میں کم ہو گی۔ (3) حفظ حدیث سے عموماً حدیث کو زبانی یاد رکھنا مراد لیا جاتا ہے لیکن تحریری طور پر حدیث کو محفوظ کر لینا بھی حفظ حدیث میں شامل ہے۔ ائمہ حدیث نے دونوں طرح حدیث کو محفوظ کیا ہے بلکہ صحابہ کرام میں سے متعدد حضرات حدیث تحریری طور پر محفوظ رکھتے تھے اور زبانی بھی یاد کرتے تھے اور روایت کرتے تھے۔ مثلا: حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ وغيره۔
حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اس شخص کو خوش رکھے، جس نے ہماری کوئی بات سنی، پھر اسے ( دوسروں تک) پہنچایا، بعض اوقات جسے حدیث پہنچائی جاتی ہے، وہ ( براہ راست) سننے والے سے زیادہ یاد رکھنے والا ہوتا ہے۔‘‘
حدیث حاشیہ:
(1) حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نام کے متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے احادیث مروی ہیں۔ اس حدیث کے راوی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں۔ جب صرف عبداللہ (صحابی) لکھا ہو تو مراد عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہی ہوں گے۔ (2) اس حدیث میں بشارت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے بعد بھی ہر دور میں حفاظ حدیث موجود رہیں گے اگرچہ ان کی تعداد کسی دورمیں بہت زیادہ اور کسی دور میں کم ہو گی۔ (3) حفظ حدیث سے عموماً حدیث کو زبانی یاد رکھنا مراد لیا جاتا ہے لیکن تحریری طور پر حدیث کو محفوظ کر لینا بھی حفظ حدیث میں شامل ہے۔ ائمہ حدیث نے دونوں طرح حدیث کو محفوظ کیا ہے بلکہ صحابہ کرام میں سے متعدد حضرات حدیث تحریری طور پر محفوظ رکھتے تھے اور زبانی بھی یاد کرتے تھے اور روایت کرتے تھے۔ مثلا: حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ وغيره۔
ترجمۃ الباب:
حدیث ترجمہ:
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے میری کوئی حدیث سنی اور اسے دوسروں تک پہنچا دیا، اس لیے کہ بہت سے وہ لوگ جنہیں حدیث پہنچائی جاتی ہے وہ سننے والوں سے زیادہ ادراک رکھنے والے ہوتے ہیں۔‘‘
حدیث حاشیہ:
ترجمۃ الباب:
حدیث ترجمہ:
‘AbdurRahman bin ‘Abdullâ (ﷺ) narrated from his father that the Prophet (ﷺ) said: “May Allah cause his face to shine, the man who hears a Hadith from us and conveys it, for perhaps the one to whom it is conveyed may remember it better than the one who (first) hears it”