قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: صفات و شمائل للنبی صلی اللہ علیہ وسلم

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الرُّهُونِ (بَابُ الرَّجُلِ يَسْتَقِي كُلُّ دَلْوٍ بِتَمْرَةٍ، وَيَشْتَرِطُ جَلْدَةً)

حکم : ضعیف جداً

ترجمة الباب:

2448 .   حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ جَدِّهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لِي أَرَى لَوْنَكَ مُنْكَفِئًا قَالَ الْخَمْصُ فَانْطَلَقَ الْأَنْصَارِيُّ إِلَى رَحْلِهِ فَلَمْ يَجِدْ فِي رَحْلِهِ شَيْئًا فَخَرَجَ يَطْلُبُ فَإِذَا هُوَ بِيَهُودِيٍّ يَسْقِي نَخْلًا فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ لِلْيَهُودِيِّ أَسْقِي نَخْلَكَ قَالَ نَعَمْ قَالَ كُلُّ دَلْوٍ بِتَمْرَةٍ وَاشْتَرَطَ الْأَنْصَارِيُّ أَنْ لَا يَأْخُذَ خَدِرَةً وَلَا تَارِزَةً وَلَا حَشَفَةً وَلَا يَأْخُذَ إِلَّا جَلْدَةً فَاسْتَقَى بِنَحْوٍ مِنْ صَاعَيْنِ فَجَاءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: رہن ( گروی رکھی ہوئی چیز) سے متعلق احکام ومسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: ایک ڈول کے عوض ایک کجھور معاوضے پر کھیت کو پانی دینا اور کھجور کے عمدہ ہونے کی شرط لگا لینا

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

2448.   حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: انصار میں سے ایک صاحب نے آكر عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ! مجھے آپ (کے چہزہ مبارک) کا رنگ بدلا ہوا کیوں محسوس ہو رہا ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بھوک (کی وجہ سے) ہے۔ انصاری صحابی اپنے گھر گئے، گھر میں انہیں (کھانے کی) کوئی چیز نہ ملی۔ وہ (کام کی) تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ دیکھا کہ ایک یہودی کھجور کے درختوں کو پانی دے رہا تھا۔ انصاری صحابی نے یہودى سے کہا: کیا میں تمہارے درختوں کو پانی دے دوں؟ اس نے کہا: ہاں (دے دو) اور کہا: ہر ڈول کا معاوضہ ایک کھجور ہو گی۔ انصاری نے شرط لگا لی کہ وہ کالی، سوکھی اور خراب کھجور نہیں لیں گے بلکہ عمدہ کھجور ہی لیں گے۔ انہوں نے (باغ کو) پانی دے کر اس کے عوض تقریبا دو صاع کھجوریں حاصل کر لیں اور انہیں لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔