قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الدِّيَاتِ (بَابُ الْقِصَاصِ فِي السِّنِّ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

2649 .   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى أَبُو مُوسَى حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَسَرَتْ الرُّبَيِّعُ عَمَّةُ أَنَسٍ ثَنِيَّةَ جَارِيَةٍ فَطَلَبُوا الْعَفْوَ فَأَبَوْا فَعَرَضُوا عَلَيْهِمْ الْأَرْشَ فَأَبَوْا فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِالْقِصَاصِ فَقَالَ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُكْسَرُ ثَنِيَّةُ الرُّبَيِّعِ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا تُكْسَرُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَنَسُ كِتَابُ اللَّهِ الْقِصَاصُ قَالَ فَرَضِيَ الْقَوْمُ فَعَفَوْا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّةُ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: دیتوں سے متعلق احکام ومسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: دانت توڑنے کا قصاص

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

2649.   انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ انس ؓ کی پھوپھی ربیع بنت نضر‬ ؓ ن‬ے ایک لڑکی کا دانت توڑ دیا۔ انہوں (ربیع کے گھر والوں) نے معاف کر دینے کی درخواست کی، لیکن انہوں نے (فریق ثای نے معاف کرنے سے ) انکار کر دیا۔ وہ لوگ (فریقین) نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ ﷺ نے قصاص کا حکم دے دیا۔ انس بن نضر ؓ نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! کیا (میری بہن) ربیع ؓ کا دانٹ توڑ دیا جائے گا؟ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو سچا دین دے کر بھیجا ہے! اس کا دانٹ نہیں توڑا جائے گا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’انس! اللہ کا قانون تو قصاص ہی ہے۔‘‘ (راوی نے کہا:) پھر وہ لوگ راضی ہوگئے اور انہوں نے معاف کر دیا۔ تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ کا کوئی بندہ ایسا بھی ہوتا ہے جو اللہ پر (اعتماد کرتے ہوئے) قسم کھا لے تو اللہ تعالیٰ اس کی قسم پوری فرما دیتا ہے۔‘‘