قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الدِّيَاتِ (بَابُ الْعَفْوِ عَنِ الْقَاتِلِ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

2690 .   حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَتَلَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَفَعَهُ إِلَى وَلِيِّ الْمَقْتُولِ فَقَالَ الْقَاتِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ قَتْلَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْوَلِيِّ أَمَا إِنَّهُ إِنْ كَانَ صَادِقًا ثُمَّ قَتَلْتَهُ دَخَلْتَ النَّارَ قَالَ فَخَلَّى سَبِيلَهُ قَالَ فَكَانَ مَكْتُوفًا بِنِسْعَةٍ فَخَرَجَ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ فَسُمِّيَ ذَا النِّسْعَةِ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: دیتوں سے متعلق احکام ومسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: قاتل کومعاف کرنا

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

2690.   حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کے زمانہ مبارک میں ایک شخص نے قتل کر دیا۔ اسے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر کیا گیا تو آپﷺ نے اسے مقتول کے وارث کے سپرد کر دیا۔ قاتل نے کہا: اے اللہ کے رسولﷺ! قسم ہے اللہ کی! میرا اسے قتل کرنے کا ارادہ نہیں تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے مقتول کے وارث سے فرمایا: ’’سنو! اگر وہ سچا ہوا، پھر بھی تم نے اسے قتل کر دیا تو تم جہنم میں جاؤ گے۔‘‘ اس نے اسے آزاد کر دیا۔ راوی نے بیان کیا: اس کے بازو چمڑے کی رسی سے بندھے ہوئے تھے۔ ( (اس کے چھوڑ دینے پر) وہ رسی کھینچتا ہوا نکلا( اس لیے ) اسے ذُونسعہ( تسمے والا) کہا جانے لگا۔