موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْفَرَائِضِ (بَابُ الْكَلَالَةِ)
حکم : صحیح
2726 . حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَامَ خَطِيبًا يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَوْ خَطَبَهُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ إِنِّي وَاللَّهِ مَا أَدَعُ بَعْدِي شَيْئًا هُوَ أَهَمُّ إِلَيَّ مِنْ أَمْرِ الْكَلَالَةِ وَقَدْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا أَغْلَظَ لِي فِي شَيْءٍ مَا أَغْلَظَ لِي فِيهَا حَتَّى طَعَنَ بِإِصْبَعِهِ فِي جَنْبِي أَوْ فِي صَدْرِي ثُمَّ قَالَ يَا عُمَرُ تَكْفِيكَ آيَةُ الصَّيْفِ الَّتِي نَزَلَتْ فِي آخِرِ سُورَةِ النِّسَاءِ
سنن ابن ماجہ:
کتاب: وراثت سے متعلق احکام ومسائل
باب: کلالہ کی میراث
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
2726. حضرت معدان بن ابو طلحہ یعمری رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب ؓ جمعے کے دن خطبہ دینے کھڑے ہوئے، یا راوی نے کہا: انہوں نے جمعے کے دن خطبہ دیا۔ آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان فرمائی، پھر فرمایا: قسم ہے اللہ کی! میں اپنے بعد کلالہ کے مسئلے سے زیادہ پریشان کن مسئلہ چھوڑ کر نہیں جاؤں گا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے (یہ مسئلہ) دریافت کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے کسی معاملے میں مجھے ایسا سخت جواب نہیں دیا جیسا اس مسئلے میں ناگواری کا اظہار فرمایا۔ حتی کہ رسول اللہ ﷺ نے میرے پہلو یا سینے میں انگلی مار کر فرمایا: ’’اے عمر تجھے موسم گرما میں نازل ہونے والی آیت کافی ہے جو سورہٴ نساء کے آخر میں نازل ہوئی۔‘‘