قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْجِهَادِ (بَابُ الْوَفَاءِ بِالْبَيْعَةِ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

2870 .   حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمْ اللَّهُ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ رَجُلٌ عَلَى فَضْلِ مَاءٍ بِالْفَلَاةِ يَمْنَعُهُ مِنْ ابْنِ السَّبِيلِ وَرَجُلٌ بَايَعَ رَجُلًا بِسِلْعَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ فَحَلَفَ بِاللَّهِ لَأَخَذَهَا بِكَذَا وَكَذَا فَصَدَّقَهُ وَهُوَ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ وَرَجُلٌ بَايَعَ إِمَامًا لَا يُبَايِعُهُ إِلَّا لِدُنْيَا فَإِنْ أَعْطَاهُ مِنْهَا وَفَى لَهُ وَإِنْ لَمْ يُعْطِهِ مِنْهَا لَمْ يَفِ لَهُ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: جہاد سے متعلق احکام ومسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: بیعت پرقائم رہنا

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

2870.   حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺنے فرمایا: تین آدمی ہیں جن سے اللہ تعالی قیامت کے دن کلام نہیں کرے گا نہ ان کی طرف (نظر رحمت سے) دیکھے گا نہ انھیں پاک کریگااور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ (ایک) وہ آدمی جو بیابان میں اپنی ضرورت سے زائد پانی پر قابض ہے مسافر کو نہیں لینے دیتا۔ (دوسرا) وہ آدمی جس نے عصر کے بعد کسی آدمی کوئی چیز بیچی (بھاؤ طے کرتے وقت) اللہ کی قسم کھا کرکہ اس یہ چیز اتنے کی لی تھی گاہک نے اسے سچا سمجھ لیا حالانکہ سچا نہ تھا۔ (تیسرا) وہ آدمی جس نےکسی امام (خلیفہ یا اس کے نائب) کی بیعت صرف دنیا کے (حصول کے) لیے کی۔ اگراس (امام) نےکچھ مال دے دیا تو وفادار رہا اور اگر کچھ نہ دیا تو اس نے بھی وفا نہ کی۔