Ibn-Majah:
The Book of the Sunnah
(Chapter: Following The Sunnah Of The Messenger Of Allah)
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
ترجمۃ الباب:
3.
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول ا للہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے میری اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نا فرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔‘‘
تشریح:
(1) یہ مسئلہ قرآن مجید میں بھی ان الفاظ میں بیان ہوا ہے: ﴿مَّن يُّطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّـهَ﴾ (النساء:80) جس نے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اطاعت کی، اس نے (اصل میں) اللہ کی اطاعت کی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شریعت کے احکام اپنی رائے اور پسند کے مطابق نہیں، بلکہ اللہ کی طرف سے نازل ہونے والی وحی کے مطابق بیان فرماتے تھے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ ،إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ﴾(النجم:4,3) ’’وہ اپنی خواہش سے کلام نہیں فرماتے، بلکہ وہ تو وحی ہے جو (ان پر) نازل کی جاتی ہے۔‘‘ یہی وجہ ہے کہ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان احکام پر اسی طرح عمل کرتے تھے۔ جس طرح دوسرے مومنین، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو عام مومنوں سے کہیں زیادہ تقویٰ اور عمل صالح کا اسوہ حسنہ پیش فرماتے تھے۔ (2) قرآن مجید، فرامین نبوی اور صحابہ و تابعین کرام کے اقوال، سنت نبوی کی پیروی اور اتباع کو لازم ٹھہراتے ہیں۔ اس سلسلے میں چند فرامین درج ذیل ہیں: (ا) حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: لوگو! اصحاب الرائے سے بچو، کیونکہ وہ سنت کے دشمن ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کو حفظ کرنے سے عاجز آ گئے تو انہوں نے اپنی رائے سے مسائل بیان کرنے شروع کر دیے۔ اس طرح خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔ دیکھئے: (مفتاح الجنة في الإحتجاج بالسنة، ص:47) (ب) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت طاؤس رحمۃ اللہ علیہ کو عصر کے بعد دو رکعت نفل نماز پڑھتے دیکھا تو فرمایا: مت پڑھا کرو۔ وہ کہنے لگے: میں تو پڑھوں گا۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد نفل نماز سے منع کیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ تمہیں ان دو رکعتوں پر ثواب کی بجائے سزا ہو گی کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّـهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ﴾ (الأحزاب:36) ’’کسی مومن مرد اور مومن عورت کو حق نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کوئی حکم مقرر کر دیں تو وہ اس کام میں اپنا بھی کچھ اختیار سمجھیں۔‘‘(سنن الدارمي، المقدمة، باب ما يتقي من تفسير حديث النبي صلي الله عليه وسلم وقول غيره عند قوله صلي الله عليه وسلم، حديث:438) (ج) حضرت ایوب سختیانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’جب تو کسی شخص کو سنت نبوی کی تعلیم دے اور وہ کہے: سنت نبوی کو چھوڑیے قرآن سے تعلیم دیں۔ تو جان لو ایسا شخص گمراہ ہے۔‘‘ دیکھیے: (مفتاح الجنة،ص:35) (د) امام ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ نے ایک شخص کو فرمان نبوی سنایا تو وہ کہنے لگا: فلاں فلاں شخص تو ایسے ایسے کہتے ہیں۔ امام صاحب کہتے ہیں: میں تجھے فرمان نبوی سناتا ہوں اور تو مجھے لوگوں کی آراء سناتا ہے؟ جا! آج کے بعد میں تیرے ساتھ بات نہیں کروں گا۔ دیکھیے: (إيقاظ الهمة لإتباع نبي الأمة، ص:123) اسلاف کے اس طرز عمل سے ثابت ہوا کہ ائمہ کی تقلید اور لوگوں کی آراء کی پیروی قطعاً درست اور جائز نہیں۔ (3) علامہ ملا علی قاری حنفی رحمۃ اللہ علیہ تقلید کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں: (وَالتَّقْلِيْدُ قَبُولُ قَوْلِ الْغَيْرِ بِلَا دَلِيْلٍ فَكَأَنَّه لِقَبُولِهِ جَعَلَهُ قلَادَةً فِي عُنُقِهِ)(شرح قصيدة أمالي، ص:34) ’’کسی دوسرے کی بات بغیر دلیل کے قبول کرنا تقلید ہے۔ گویا کہ مقلد شخص نے امام کے قول کو قبول کر کے گلے کا ہار بنا لیا ہے۔‘‘ (4) تقلید کی ابتدا خیرالقروں کے بعد چوتھی صدی ہجری میں ہوئی۔ اس سے پہلے یہ بدعت موجود نہ تھی بلکہ صحابہ کرام، تابعین کرام اور ان کے شاگرد قرآن و سنت کی پیروی ہی کو واجب سمجھتے تھے۔ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: (إِعْلَمْ اَنَّ النَّاسّ كَانُوا قَبْلَ الْمِائَةِ الرَّابِعَةِ غَيْرُ مُجْمَعِيْنَ عَلَي التَّقْلِيدِ الْخَالِصِ لِمَذْهَبٍ وَّاحِدٍ) ’’جان لو کہ چوتھی صدی ہجری سے پہلے لوگ کسی ایک خالص مذہب کی تقلید پر متفق نہ تھے.‘‘ (حجة الله البالغة، ص:157) (5) تقلید کے رد میں صحابہ کرام اور ائمہ مذاہب کے فرامین ملاحظہ ہوں: (ا) حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں عمر کی جان ہے! اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی روح قبض کی نہ ان سے وحی منقطع کی حتیٰ کہ ان کی امت کو لوگوں کی آراء سے بے پروا فرما دیا۔‘‘ دیکھیے (حقیقة الفقة، ص:75) (ب) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: کیا تمہیں اللہ کا خوف نہیں آتا کہ وہ تمہیں عذاب میں مبتلا کر دے یا تمہیں زمین میں دھنسا دے، تم کہتے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے فرمایا تھا اور فلاں شخص نے یوں فرمایا ہے، یعنی فرمان نبوی کے مقابلے میں کسی شخص کی رائے کو پیش کرنا عذاب الہی کو دعوت دینا ہے۔ (حقیقة الفقة، ص:76) (ج) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تم میں سے کوئی شخص دین کے بارے میں کسی کی تقلید نہ کرے کہ اگر وہ (متبوع) مومن رہا تو اس کا مومن بھی مقلد رہے گا اور اگر وہ کافر ہوا تو اس کا مقلد بھی کافر ہو جائے گا۔ اس اعتبار سے یہ تقلید بلاشبہ برائی میں اُسوہ ہے۔ (الإِیْقَاظُ لهمم أُولِي الأَبْصَارِ)أَعَاذَنَااللهُ مِنْهُ. (د) حضرت عبداللہ بن معتمر کہتے ہیں: (لَا فَرقَ بَيْنَ بَهِيْمَةٍ تَنْقَادُ وُإنْسَانٍ يُقَلِّدُ) ’’مقلد شخص اور حیوان میں کوئی فرق نہیں۔‘‘ (حقیقة الفقة، ص:78) (ہ) امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: (لَا تُقَلِّدْنِي وَلَا تُقَلِّدَنَّ مَالِكاً وَّلَا غَيْرَهُ وَخُذِالَأحْكَامَ مِنْ حَيْثُ أَخَذُوْا مِنَ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ)(حقيقة الفقة‘ ص:90) ’’میری تقلید نہ کرنا، نہ مالک کی، نہ کسی اور کی تقلید کرنا۔ احکام کو وہاں سے حاصل کرو جہاں سے انہوں نے حاصل کیے ہیں یعنی کتاب و سنت سے۔‘‘ نیز فرمایا: ’’کسی شخص کے لیے حلال نہیں کہ وہ میری دلیل سے واقف ہوئے بغیر میرے کلام کا فتویٰ دے۔‘‘ (حقیقة الفقة، ص:88) (ر) امام مالک رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’ہر شخص کی بات قبول بھی کی جا سکتی ہے اور رد بھی، سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے (وہ واجب الإتباع ہے۔)‘‘ (ز) امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’جب تم دیکھو کہ میرا قول حدیث نبوی کے خلاف ہے تو حدیث نبوی پر عمل کرو اور میرے قول کو دیوار پر دے مارو۔‘‘ نیز فرمایا: (إِذَا صَحَّ الْحَدِيْثُ فَهُوَ مَذْهَبِي)(عِقْدُ الْجِيْدِ وَ حُجَّةُ اللهِ الْبَالِغَة:1؍157) ’’جب صحیح حدیث مل جائے تو میرا مذہب وہی ہے‘‘۔ (ح) امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’کسی کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کلام کی گنجائش نہیں۔‘‘ (کتاب و سنت کے ہوتے ہوئے کسی کی رائے کی کوئی اہمیت نہیں۔) (ط) امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: (هَل يُقَلِّدُ اِلَّا عَصِيٌّ) ’’تقلید نافرمان ہی کرتا ہے۔‘‘ (ی) علامہ جاراللہ حنفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: (إِنْ كَانَ لِضَلاَلٍ اُمٌّ فَالتَّقْلِيْدُ اُمُّهُ) ’’اگر گمراہی کی کوئی ماں ہوتی تو وہ تقلید ہی ہوتی۔‘‘ (حقیقة الفقة،ص:58،51) ائمہ سلف کے مذکورہ اقوال سے معلوم ہوا کہ گمراہی کا اصل اور اس کی جڑ تقلید ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اتباع سنت کی توفیق عطا فرمائے اور تقلید سے نجات دے۔ آمین.
الحکم التفصیلی:
قلت : هو سليمان بن حيان وهو ثقة أحتج به الشيخان ولم يتفرد بها بل تابعه محمد بن سعد الأنصاري وهو ثقة كما قال ابن معين وغيره أخرجه النسائي والدارقطني ويقويها الطريق السابعة وقد صحح هذه الزيادة الإمام مسلم وإن لم يخرجها في صحيحه ففيه ( 2 / 15 ) : " فقال له أبو بكر بن أخت أبي النضر فحديث أبي هريرة ؟ فقال : هو صحيح يعني : وإذا قرأ فأنصتوا : فقال : هو عندي صحيح فقال : لم لم تضعه ههنا ؟ قال : ليس كل شئ عندي صحيح وضعته ههنا وإنما وضعت ههنا ما أجمعوا عليه " . ومما يقوي هذه الزيادة أن لها شاهدا من حديث ابي موسى الاشعري عند مسلم وغيره كما تقدم برقم ( 332 ) . والحديث رواه مصعب بن محمد عن أبي صالح به بلفظ : " إنما جعل الإمام ليؤتهم به فإذا كبر فكبروا ولا تكبروا حتى يكبر وإذا ركع فأركعوا ولا تركعوا حتى يركع وإذا قال سمع الله لمن حمده فقولوا : اللهم ربنا لك الحمد وإذا سجد فأسجدوا ولا تسجدوا حتى يسجد وإذا صلى قائما فصلوا قياما فإذا صلى قاعدا فصلوا قعودا أجمعون " . أخرجه أبو داود ( 603 ) وأحمد ( 2 / 341 ) ورواه الطحاوي مختصرا . قلت : وهذا سند صحيح . السادسة : عن أبي سلمة عنه مثل الطريق الرابعة . أخرجه ابن ماجه ( 1239 ) والطحاوي وأحمد ( 2 / 411 ، 438 ، 475 )
السابعة : عجلان المدني عنه بلفظ : " إنما الإمام ليؤتم به فإذا كبر فكبروا وإذا قرأ فأنصتوا وإذا قال : ولا الضالين فقولوا : آمين وإذا ركع فاركعوا . الحديث . رواه أحمد ( 2 / 376 ) : حدثنا [ أبو ] سعد الصاغاني محمد بن ميسر حدثنا محمد بن عجلان عن أبيه . وكذا رواه الدارقطني ( 125 ) قلت : ورجاله ثقات غير أبي سعد هذا فإنه ضعيف . وأما حديث جابر فله عنه طرق : الأولى : عن أبي الزبير عنه قال : " اشتكى رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) فصلينا وراءه وهو قاعد وأبو بكر يسمع الناس تكبيره فالتفت إلينا فرآنا قياما فأشار إلينا فقعدنا فصلينا بصلاته قعودا فلما سلم قال : إن كدتم آنفا لتفعلون فعل فارس والروم يقومون على ملوكهم وهم قعود فلا تفعلوا ائتموا بائمتكم إن صلى قائما فصلوا قياما وإن صلى قاعدا فصلوا قعودا " . أخرجه مسلم ( 2 / 19 ) وأبو عوانة ( 2 / 108 ) وابن ماجه ( 1240 ) والطحاوي ( 1 / 234 ) والبيهقي وأحمد ( 3 / 334 ) من طريق الليث ابن سعد وغيره عنه . الثانية : عن أبي سفيان عنه قال : " ركب رسول الله ( صلى الله عليه وسلم ) " فرسا بالمدينة فصرعه على جذم نخلة فانفكت قدمه فأتيناه نعوده فوجدناه في مشربة لعائشة يسبح جالسا قال : فقمنا خلفه فأشار إلينا فقعدنا قال : فلما قضى الصلاة قال : إذا صلى الإمام جالسا فصلوا جلوسا وإذا صلى الإمام قائما فصلوا قياما ولا تفعلوا كما يفعل أهل فارس بعظمائها . أخرجه أبو داود ( 602 ) والبيهقي ( 3 / 80 ) وأحمد ( 3 / 300 ) وإسناده صحيح على شرط مسلم
وأما حديث ابن عمر فلفظه مثل لفظ رواية ابي علقمة عن أبي هريرة في الرواية الثالثة دون قوله : " وإذا قال : سمع الله لمن حمده . . . " الخ . رواه الطحاوي بسند صحيح
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول ا للہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے میری اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نا فرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔‘‘
حدیث حاشیہ:
(1) یہ مسئلہ قرآن مجید میں بھی ان الفاظ میں بیان ہوا ہے: ﴿مَّن يُّطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّـهَ﴾ (النساء:80) جس نے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اطاعت کی، اس نے (اصل میں) اللہ کی اطاعت کی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شریعت کے احکام اپنی رائے اور پسند کے مطابق نہیں، بلکہ اللہ کی طرف سے نازل ہونے والی وحی کے مطابق بیان فرماتے تھے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ ،إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ﴾(النجم:4,3) ’’وہ اپنی خواہش سے کلام نہیں فرماتے، بلکہ وہ تو وحی ہے جو (ان پر) نازل کی جاتی ہے۔‘‘ یہی وجہ ہے کہ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان احکام پر اسی طرح عمل کرتے تھے۔ جس طرح دوسرے مومنین، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو عام مومنوں سے کہیں زیادہ تقویٰ اور عمل صالح کا اسوہ حسنہ پیش فرماتے تھے۔ (2) قرآن مجید، فرامین نبوی اور صحابہ و تابعین کرام کے اقوال، سنت نبوی کی پیروی اور اتباع کو لازم ٹھہراتے ہیں۔ اس سلسلے میں چند فرامین درج ذیل ہیں: (ا) حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: لوگو! اصحاب الرائے سے بچو، کیونکہ وہ سنت کے دشمن ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کو حفظ کرنے سے عاجز آ گئے تو انہوں نے اپنی رائے سے مسائل بیان کرنے شروع کر دیے۔ اس طرح خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔ دیکھئے: (مفتاح الجنة في الإحتجاج بالسنة، ص:47) (ب) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت طاؤس رحمۃ اللہ علیہ کو عصر کے بعد دو رکعت نفل نماز پڑھتے دیکھا تو فرمایا: مت پڑھا کرو۔ وہ کہنے لگے: میں تو پڑھوں گا۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد نفل نماز سے منع کیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ تمہیں ان دو رکعتوں پر ثواب کی بجائے سزا ہو گی کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّـهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ﴾ (الأحزاب:36) ’’کسی مومن مرد اور مومن عورت کو حق نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کوئی حکم مقرر کر دیں تو وہ اس کام میں اپنا بھی کچھ اختیار سمجھیں۔‘‘(سنن الدارمي، المقدمة، باب ما يتقي من تفسير حديث النبي صلي الله عليه وسلم وقول غيره عند قوله صلي الله عليه وسلم، حديث:438) (ج) حضرت ایوب سختیانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’جب تو کسی شخص کو سنت نبوی کی تعلیم دے اور وہ کہے: سنت نبوی کو چھوڑیے قرآن سے تعلیم دیں۔ تو جان لو ایسا شخص گمراہ ہے۔‘‘ دیکھیے: (مفتاح الجنة،ص:35) (د) امام ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ نے ایک شخص کو فرمان نبوی سنایا تو وہ کہنے لگا: فلاں فلاں شخص تو ایسے ایسے کہتے ہیں۔ امام صاحب کہتے ہیں: میں تجھے فرمان نبوی سناتا ہوں اور تو مجھے لوگوں کی آراء سناتا ہے؟ جا! آج کے بعد میں تیرے ساتھ بات نہیں کروں گا۔ دیکھیے: (إيقاظ الهمة لإتباع نبي الأمة، ص:123) اسلاف کے اس طرز عمل سے ثابت ہوا کہ ائمہ کی تقلید اور لوگوں کی آراء کی پیروی قطعاً درست اور جائز نہیں۔ (3) علامہ ملا علی قاری حنفی رحمۃ اللہ علیہ تقلید کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں: (وَالتَّقْلِيْدُ قَبُولُ قَوْلِ الْغَيْرِ بِلَا دَلِيْلٍ فَكَأَنَّه لِقَبُولِهِ جَعَلَهُ قلَادَةً فِي عُنُقِهِ)(شرح قصيدة أمالي، ص:34) ’’کسی دوسرے کی بات بغیر دلیل کے قبول کرنا تقلید ہے۔ گویا کہ مقلد شخص نے امام کے قول کو قبول کر کے گلے کا ہار بنا لیا ہے۔‘‘ (4) تقلید کی ابتدا خیرالقروں کے بعد چوتھی صدی ہجری میں ہوئی۔ اس سے پہلے یہ بدعت موجود نہ تھی بلکہ صحابہ کرام، تابعین کرام اور ان کے شاگرد قرآن و سنت کی پیروی ہی کو واجب سمجھتے تھے۔ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: (إِعْلَمْ اَنَّ النَّاسّ كَانُوا قَبْلَ الْمِائَةِ الرَّابِعَةِ غَيْرُ مُجْمَعِيْنَ عَلَي التَّقْلِيدِ الْخَالِصِ لِمَذْهَبٍ وَّاحِدٍ) ’’جان لو کہ چوتھی صدی ہجری سے پہلے لوگ کسی ایک خالص مذہب کی تقلید پر متفق نہ تھے.‘‘ (حجة الله البالغة، ص:157) (5) تقلید کے رد میں صحابہ کرام اور ائمہ مذاہب کے فرامین ملاحظہ ہوں: (ا) حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں عمر کی جان ہے! اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی روح قبض کی نہ ان سے وحی منقطع کی حتیٰ کہ ان کی امت کو لوگوں کی آراء سے بے پروا فرما دیا۔‘‘ دیکھیے (حقیقة الفقة، ص:75) (ب) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: کیا تمہیں اللہ کا خوف نہیں آتا کہ وہ تمہیں عذاب میں مبتلا کر دے یا تمہیں زمین میں دھنسا دے، تم کہتے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے فرمایا تھا اور فلاں شخص نے یوں فرمایا ہے، یعنی فرمان نبوی کے مقابلے میں کسی شخص کی رائے کو پیش کرنا عذاب الہی کو دعوت دینا ہے۔ (حقیقة الفقة، ص:76) (ج) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تم میں سے کوئی شخص دین کے بارے میں کسی کی تقلید نہ کرے کہ اگر وہ (متبوع) مومن رہا تو اس کا مومن بھی مقلد رہے گا اور اگر وہ کافر ہوا تو اس کا مقلد بھی کافر ہو جائے گا۔ اس اعتبار سے یہ تقلید بلاشبہ برائی میں اُسوہ ہے۔ (الإِیْقَاظُ لهمم أُولِي الأَبْصَارِ)أَعَاذَنَااللهُ مِنْهُ. (د) حضرت عبداللہ بن معتمر کہتے ہیں: (لَا فَرقَ بَيْنَ بَهِيْمَةٍ تَنْقَادُ وُإنْسَانٍ يُقَلِّدُ) ’’مقلد شخص اور حیوان میں کوئی فرق نہیں۔‘‘ (حقیقة الفقة، ص:78) (ہ) امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: (لَا تُقَلِّدْنِي وَلَا تُقَلِّدَنَّ مَالِكاً وَّلَا غَيْرَهُ وَخُذِالَأحْكَامَ مِنْ حَيْثُ أَخَذُوْا مِنَ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ)(حقيقة الفقة‘ ص:90) ’’میری تقلید نہ کرنا، نہ مالک کی، نہ کسی اور کی تقلید کرنا۔ احکام کو وہاں سے حاصل کرو جہاں سے انہوں نے حاصل کیے ہیں یعنی کتاب و سنت سے۔‘‘ نیز فرمایا: ’’کسی شخص کے لیے حلال نہیں کہ وہ میری دلیل سے واقف ہوئے بغیر میرے کلام کا فتویٰ دے۔‘‘ (حقیقة الفقة، ص:88) (ر) امام مالک رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’ہر شخص کی بات قبول بھی کی جا سکتی ہے اور رد بھی، سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے (وہ واجب الإتباع ہے۔)‘‘ (ز) امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’جب تم دیکھو کہ میرا قول حدیث نبوی کے خلاف ہے تو حدیث نبوی پر عمل کرو اور میرے قول کو دیوار پر دے مارو۔‘‘ نیز فرمایا: (إِذَا صَحَّ الْحَدِيْثُ فَهُوَ مَذْهَبِي)(عِقْدُ الْجِيْدِ وَ حُجَّةُ اللهِ الْبَالِغَة:1؍157) ’’جب صحیح حدیث مل جائے تو میرا مذہب وہی ہے‘‘۔ (ح) امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’کسی کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کلام کی گنجائش نہیں۔‘‘ (کتاب و سنت کے ہوتے ہوئے کسی کی رائے کی کوئی اہمیت نہیں۔) (ط) امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: (هَل يُقَلِّدُ اِلَّا عَصِيٌّ) ’’تقلید نافرمان ہی کرتا ہے۔‘‘ (ی) علامہ جاراللہ حنفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: (إِنْ كَانَ لِضَلاَلٍ اُمٌّ فَالتَّقْلِيْدُ اُمُّهُ) ’’اگر گمراہی کی کوئی ماں ہوتی تو وہ تقلید ہی ہوتی۔‘‘ (حقیقة الفقة،ص:58،51) ائمہ سلف کے مذکورہ اقوال سے معلوم ہوا کہ گمراہی کا اصل اور اس کی جڑ تقلید ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اتباع سنت کی توفیق عطا فرمائے اور تقلید سے نجات دے۔ آمین.
ترجمۃ الباب:
حدیث ترجمہ:
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی، اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔“ ۱؎
حدیث حاشیہ:
۱؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اکرم ﷺ کی اطاعت دراصل اللہ تعالیٰ ہی کی اطاعت ہے، اور ان کی نافرمانی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿مَن يُّطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّـهَ﴾ ”جو اطاعت کرے رسول کی وہ اطاعت کر چکا اللہ کی“ (سورة النساء:80)۔
ترجمۃ الباب:
حدیث ترجمہ:
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever obeys me, obeys Allah; and whoever disobeys me, disobeys Allah.” (Sahih)