موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: فعلی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْمَنَاسِكِ (بَابُ الْمَنْزِلِ بِعَرَفَةَ)
حکم : حسن
3009 . حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ أَنْبَأَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ حَسَّانَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْزِلُ بِعَرَفَةَ فِي وَادِي نَمِرَةَ قَالَ فَلَمَّا قَتَلَ الْحَجَّاجُ ابْنَ الزُّبَيْرِ أَرْسَلَ إِلَى ابْنِ عُمَرَ أَيَّ سَاعَةٍ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرُوحُ فِي هَذَا الْيَوْمِ قَالَ إِذَا كَانَ ذَلِكَ رُحْنَا فَأَرْسَلَ الْحَجَّاجُ رَجُلًا يَنْظُرُ أَيَّ سَاعَةٍ يَرْتَحِلُ فَلَمَّا أَرَادَ ابْنُ عُمَرَ أَنْ يَرْتَحِلَ قَالَ أَزَاغَتْ الشَّمْسُ قَالُوا لَمْ تَزِغْ بَعْدُ فَجَلَسَ ثُمَّ قَالَ أَزَاغَتْ الشَّمْسُ قَالُوا لَمْ تَزِغْ بَعْدُ فَجَلَسَ ثُمَّ قَالَ أَزَاغَتْ الشَّمْسُ قَالُوا لَمْ تَزِغْ بَعْدُ فَجَلَسَ ثُمَّ قَالَ أَزَاغَتْ الشَّمْسُ قَالُوا نَعَمْ فَلَمَّا قَالُوا قَدْ زَاغَتْ ارْتَحَلَ قَالَ وَكِيعٌ يَعْنِي رَاحَ
سنن ابن ماجہ:
کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل
باب: عرفات میں ٹھہرنا
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
3009. حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عرفات میں نمرہ میں ٹھہرتے تھے۔ حضرت سعید بن حسان بیان کرتے ہیں: جب حجاج نے حضرت عبد اللہ بن زبیر ؓ کو شہید کر دیا تو (اس کے بعد حج کے دوران میں) اس نے آدمی بھیج کر حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے دریافت کیا: نبیﷺاس دن کس وقت (عرفات کے میدان میں) جاتے تھے؟ ابن عمر ؓ نے فرمایا: جب وہ وقت آئے گا ہم روانہ ہو جائیں گے (اور تمہیں معلوم ہو جائے گا۔) حجاج نے ایک آدمی بھیجا کہ دیکھے وہ کس وقت روانہ ہوتے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ نے جب (نمرہ سے) روانہ ہونے کا ارادہ کیا تو فرمایا: کیا سورج ڈھل گیا ہے؟ لوگوں نے کہا: ابھی نہیں ڈھلا۔ آپ بیٹھ گئے۔ (کچھ دیر بعد) پھر کہا: کیا سورج ڈھل گیا ہے؟ لوگوں نے کہا: ابھی نہیں ڈھلا۔ آپ بیٹھ گئے۔(کچھ دیر بعد) پھر کہا: کیا سورج ڈھل گیا ہے؟ لوگوں نے کہا: ابھی نہیں ڈھلا۔ آپ بیٹھ گئے۔ (کچھ دیر بعد) پھر کہا: کیا سورج ڈھل گیا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں۔ جب انھوں نے کہا: ڈھل گیا ہے، تب حضرت ابن عمر ؓ روانہ ہوئے۔