قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ (بَابُ أَضَاحِيِّ رَسُولِ اللَّهِﷺ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

3121.   حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عِيدٍ، بِكَبْشَيْنِ فَقَالَ: حِينَ وَجَّهَهُمَا «إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا، وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي، وَنُسُكِي، وَمَحْيَايَ، وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ، وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ مِنْكَ، وَلَكَ عَنْ مُحَمَّدٍ وَأُمَّتِهِ»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: قربانی سے متعلق احکام ومسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: اللہ کے رسول ﷺ کی قربانی کا بیان

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

3121.   حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا :رسول اللہ ﷺ نے عید کے دن جو مینڈھے قربان کیے جب انہیں قبلہ رخ کیا تو فرمایا: ﴿إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِين﴾ اللهم منك ولك عن محمد و امته‘‘ ’’میں نے یکسو ہو کر اپنا چہرہ اللہ کی طرف کرلیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور میں مشرکین میں سے نہیں۔ بے شک میری نماز ،میری قربانی ،میری موت اللہ کے لیے ہے جو سارے جہانوں کا مالک ہے ، اسکا کوئی شریک نہیں ۔مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا فرماں بردار ہوں۔‘‘ اے اللہ! یہ جانور تجھی سے ملا اور تیرے ہی لیے قربان کیا۔ محمد ﷺاور انکی امت سے۔‘‘