موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الصَّيْدِ (بَابُ الطَّافِي مِن صَيدِ البَحرِ)
حکم : صحیح
3246 . حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ قَالَ: حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ، مِنْ آلِ ابْنِ الْأَزْرَقِ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ، وَهُوَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْبَحْرُ الطَّهُورُ مَاؤُهُ، الْحِلُّ مَيْتَتُهُ» قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: بَلَغَنِي عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ الْجَوَادِ أَنَّهُ قَالَ: «هَذَا نِصْفُ الْعِلْمِ، لِأَنَّ الدُّنْيَا بَرٌّ وَبَحْرٌ، فَقَدْ أَفْتَاكَ فِي الْبَحْرِ وَبَقِيَ الْبَرُّ»
سنن ابن ماجہ:
کتاب: شکار کے احکام ومسائل
باب: سمندر کاشکار (مرکر پانی پر ) تیر آئے تو کیا حکم ہے ؟
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
3246. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’سمندر کا پانی پاک کرنے والا ہے اور اس کا مرا ہو جانور حلال ہے۔‘‘ امام ابن ماجہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: مجھے ابو عبیدہ جواد رحمۃ اللہ سے یہ روایت پہنچی ہے کہ انہوں نے فرمایا: یہ حدیث آدھا علم ہے، اس لیے کہ دنیا برو بحر (خشکی اور سمندر) پر مشتمل ہے۔ نبیﷺ نے (اس حدیث کے ذریعے سے) سمندر کے بارے میں فتویٰ دے دیا، باقی خشکی رہ گئی (کہ خشکی کے کون سے جانور حرام ہیں اور کون سے حلال۔)