قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ (بَابُ مَا يُقَالُ إِذَا فَرَغَ مِنَ الطَّعَامِ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

3284 .   حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ، إِذَا رُفِعَ طَعَامُهُ أَوْ مَا بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا، طَيِّبًا مُبَارَكًا، غَيْرَ مَكْفِيٍّ، وَلَا مُوَدَّعٍ، وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: کھانوں سے متعلق احکام ومسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: کھانے سے فارغ ہو کر کیا کہنا چاہیے ؟

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

3284.   حضرت ابو امامہ باہلی ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب نبیﷺکے سامنے موجود کھانا (فارغ ہونے پر) اٹھایا جاتا تو آپﷺ فرماتے: (الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا، طَيِّبًا مُبَارَكًا، غَيْرَ مَكْفِيٍّ، وَلَا مُوَدَّعٍ، وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا) ’’تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، ایسی تعریف جو بہت زیادہ ہو، پاکیزہ ہو اور اس میں برکت دی گئی ہو، نہ کفایت کیا گیا (کہ مزید کی ضرورت نہ رہے)، نہ یہ آخری کھانا ہے، نہ اس سے بے نیازی ہو سکتی ہے۔ اے ہمارے رب!‘‘