موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ (بَابُ الْقَدِيدِ)
حکم : صحیح
3312 . حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَسَدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَكَلَّمَهُ، فَجَعَلَ تُرْعَدُ فَرَائِصُهُ، فَقَالَ لَهُ: «هَوِّنْ عَلَيْكَ، فَإِنِّي لَسْتُ بِمَلِكٍ، إِنَّمَا أَنَا ابْنُ امْرَأَةٍ تَأْكُلُ الْقَدِيدَ» قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: إِسْمَاعِيلُ وَحْدَهُ، وَصَلَهُ
سنن ابن ماجہ:
کتاب: کھانوں سے متعلق احکام ومسائل
باب: خشک گوشت کا بیان
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
3312. حضرت ابو مسعود (عقبہ بن عمرو انصاری)ؓ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: ایک آدمی نبیﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اور آپﷺ سے بات کرنے لگا۔ (رسول اللہﷺ کے رعب کی وجہ سے) اس کے کندھے کانپنے لگے (اس پر کپکپی طاری ہو گئی) رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’گھبراؤ مت، میں بادشاہ نہیں ہوں۔ میں تو ایک ایسی(عام سی غریب) عورت کا بیٹا ہوں جو خشک کیا ہوا گوشت کھایا کرتی تھی۔‘‘ امام ابو عبد اللہ ابن ماجہ ؓ نے کہا: روایت کے راوی اسماعیل (بن ابو خالد) ہی نے اسے موصول بیان کیا ہے۔