موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الدُّعَاءِ (بَابُ مَا يَدْعُو بِهِ الرَّجُلُ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى)
حکم : صحیح
3869 . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ عَبْدٍ يَقُولُ فِي صَبَاحِ كُلِّ يَوْمٍ وَمَسَاءِ كُلِّ لَيْلَةٍ بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَيَضُرَّهُ شَيْءٌ قَالَ وَكَانَ أَبَانُ قَدْ أَصَابَهُ طَرَفٌ مِنْ الْفَالِجِ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَنْظُرُ إِلَيْهِ فَقَالَ لَهُ أَبَانُ مَا تَنْظُرُ إِلَيَّ أَمَا إِنَّ الْحَدِيثَ كَمَا قَدْ حَدَّثْتُكَ وَلَكِنِّي لَمْ أَقُلْهُ يَوْمَئِذٍ لِيُمْضِيَ اللَّهُ عَلَيَّ قَدَرَهُ
سنن ابن ماجہ:
کتاب: دعا سے متعلق احکام ومسائل
باب: صبح و شام پڑھنے کی دعائیں
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
3869. حضرت ابان بن عثمان بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان بن عفان ؓ سے سنا، وہ فرما رہے تھے: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ فرما رہے تھے: جو بندہ ہر دن کی صبح کو اور ہر رات کی شام کو تین بار یہ دعا پڑھے اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی: (بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ) ’’اللہ کے نام کے ذریعے سے (پناہ مانگتا ہوں) جس کے نام کی برکت سے زمین و آسمان میں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی اور وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے۔ راوی کہتے ہیں: حضرت ابان ؓ کے جسم پر فالج کا اثر تھا، چنانچہ (ان سے حدیث سننے والا) آدمی ان کی طرف (تعجب سے) دیکھنے لگا۔ حضرت ابان ؓ نے فرمایا: میری طرف کیا دیکھتے ہو؟ حدیث اسی طرح ہے جیسے میں نے تجھے سنائی ہے، لیکن اس دن میں نے یہ دعا نہیں پڑھی تھی، اس طرح اللہ نے اپنا فیصلہ مجھ پر جاری فرما دیا۔