قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْفِتَنِ (بَابُ الْعُزْلَةِ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

3978 .   حَدَّثَنَاهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا الزَّبِيدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «رَجُلٌ مُجَاهِدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِنَفْسِهِ، وَمَالِهِ» ، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «ثُمَّ امْرُؤٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ، يَعْبُدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: فتنہ و آزمائش سے متعلق احکام و مسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: (فتنوں کے دور میں لوگوں سے ) الگ تھلگ رہنا

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

3978.   حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے، ایک آدمی نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر سوال کیا: کون سا انسان افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ کی راہ میں اپنی جان اور مال کے ساتھ جہاد کرنے والا۔ اس نے کہا: اس کے بعد کون سا (افضل ہے)؟ آپ نے فرمایا: وہ آدمی جو کسی گھاٹی میں اللہ کی عبادت کرتا ہے، لوگوں کو اپنے شر سے بچائے رکھتا ہے۔