قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْفِتَنِ (بَابُ الْعُزْلَةِ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

3980 .   حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ، يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ، وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ، يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: فتنہ و آزمائش سے متعلق احکام و مسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: (فتنوں کے دور میں لوگوں سے ) الگ تھلگ رہنا

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

3980.   حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قریب ہے کہ مسلمان کے لیے بہترین مال بکریاں ہوں جن کو پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش کی جگہوں میں (جہاں گھاس چارہ مل سکتا ہے) لیے پھرتا رہے۔ اور (اس طرح) اپنے دین کو فتنوں سے بچانے کے لیے (فتنوں سے دور) بھاگتا پھرے۔