قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الْفِتَنِ (بَابُ الصَّبْرِ عَلَى الْبَلَاءِ)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

4024 .   حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ قَالَ: حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوعَكُ، فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَيْهِ فَوَجَدْتُ حَرَّهُ بَيْنَ يَدَيَّ فَوْقَ اللِّحَافِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَشَدَّهَا عَلَيْكَ قَالَ: «إِنَّا كَذَلِكَ يُضَعَّفُ لَنَا الْبَلَاءُ، وَيُضَعَّفُ لَنَا الْأَجْرُ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلَاءً؟ قَالَ: «الْأَنْبِيَاءُ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «ثُمَّ الصَّالِحُونَ، إِنْ كَانَ أَحَدُهُمْ لَيُبْتَلَى بِالْفَقْرِ، حَتَّى مَا يَجِدُ أَحَدُهُمْ إِلَّا الْعَبَاءَةَ يَحُوبُهَا، وَإِنْ كَانَ أَحَدُهُمْ لَيَفْرَحُ بِالْبَلَاءِ، كَمَا يَفْرَحُ أَحَدُكُمْ بِالرَّخَاءِ»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: فتنہ و آزمائش سے متعلق احکام و مسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: مصیبت پر صبر کا بیان

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

4024.   حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپﷺ کو بخار تھا۔ میں نے آپﷺ کے جسم مبارک پر ہاتھ رکھا تو لحاف کے اوپر رکھے ہوئے میرے ہاتھ کو حرارت محسوس ہوئی۔ میں نے کہا: اللہ کے رسولﷺ! آپﷺ کو کتنا سخت بخار ہے! آپﷺ نے فرمایا: ہم (انبیاء) اسی طرح ہوتے ہیں کہ ہمیں مصیبت (یا آزمائش) بھی دگنی آتی ہے اور ثواب بھی دوگنا ملتا ہے۔ میں نے کہا: اللہ کے رسولﷺ! سب سے زیادہ سخت آزمائش کن لوگوں کو آتی ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’نبیوں کو‘‘ میں نے کہا: ان کے بعد؟ فرمایا: ’’نیک لوگوں کو۔‘‘ انہیں فقر کے ذریعے سے آزمایا جاتا تھا کہ (بعض اوقات) ایک آدمی کو صرف ایک چادر میسر ہوتی تھی جسے وہ جسم پر لپیٹ لیتا تھا۔ اور وہ مصیبت پر اس طرح خوش ہوتے تھے جس طرح تم راحت پر خوش ہوتے ہو۔