قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الزُّهْدِ (بَابُ مَثَلُ الدُّنْيَا)

حکم : صحیح

ترجمة الباب:

4110 .   حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ وَمُحَمَّدٌ الصَّبَّاحُ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى زَكَرِيَّا بْنُ مَنْظُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ فَإِذَا هُوَ بِشَاةٍ مَيِّتَةٍ شَائِلَةٍ بِرِجْلِهَا فَقَالَ أَتُرَوْنَ هَذِهِ هَيِّنَةً عَلَى صَاحِبِهَا فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ عَلَى صَاحِبِهَا وَلَوْ كَانَتْ الدُّنْيَا تَزِنُ عِنْدَ اللَّهِ جَنَاحَ بَعُوضَةٍ مَا سَقَى كَافِرًا مِنْهَا قَطْرَةً أَبَدًا

سنن ابن ماجہ:

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: دنیا کی مثا ل

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

4110.   حضرت سہل بن سعد ؓ روایت ہے، انھوں نے فرمایا: ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ہمرا ذوالحلیفہ کے مقام پر تھے۔ اچانک آپﷺ کو (راستے میں) ایک مری ہوئی بکری نظر آئی، (وہ مر کر پھول گئی تھی اور) اس کی ٹانگ اوپر اٹھی ہوئی تھی توآپ ﷺ نے فرمایا: ’’تمہارا کیاخیال ہے،کیا یہ بکری مالک کی نظر میں حقیر ہے؟ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!جتنی یہ بکری مالک کی نظر میں حقیر ہے، دنیااللہ کی نظر میں اس سے زیادہ حقیر ہے۔ اگر دنیا اللہ کے ہاں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی وزن رکھتی تووہ کسی کافر کو کبھی ایک قطرہ بھی پینے کو نہ دیتا۔‘‘