قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: صفات و شمائل للنبی صلی اللہ علیہ وسلم

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الزُّهْدِ (بَابُ الْبَرَاءَةُ مِنَ الْكِبْرِ وَالتَّوَاضُعُ)

حکم : ضعیف

ترجمۃ الباب:

4178.   حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُسْلِمٍ الْأَعْوَرِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُ الْمَرِيضَ وَيُشَيِّعُ الْجِنَازَةَ وَيُجِيبُ دَعْوَةَ الْمَمْلُوكِ وَيَرْكَبُ الْحِمَارَ وَكَانَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرِ عَلَى حِمَارٍ وَيَوْمَ خَيْبَرَ عَلَى حِمَارٍ مَخْطُومٍ بِرَسَنٍ مِنْ لِيفٍ وَتَحْتَهُ إِكَافٌ مِنْ لِيفٍ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: تکبرسے بچنا اور فروتنی اختیار کرنا

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

4178.   حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ بیمار کی عیادت فرماتے، جنازے کے ساتھ جاتے، غلام کی دعوت قبول کرتے اور گدھے پر سوار ہو جایا کرتے تھے۔ بنو قریظہ اور بنونضیر کے دن (جس دن بنوقریظہ اور بنونضیر والا واقعہ ہوا) آپ ﷺ ایک گدھے پر سوار تھے۔ اور جنگ خیبر کے موقع پر آپﷺ ایک گدھے پر سوار تھے جس کی لگام کھجور کے پتوں سے بنی ہوئی رسی کی تھی۔ اور آپ کے نیچے کھجور کے پتوں کی زین تھی۔