قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: صفات و شمائل للنبی صلی اللہ علیہ وسلم

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الزُّهْدِ (بَابُ الحُزنِ وَالبُکَاءِ)

حکم : حسن - دون قوله: " والله لوددت ... " فإنه مدرج -

ترجمة الباب:

4190 .   حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أَرَى مَا لَا تَرَوْنَ وَأَسْمَعُ مَا لَا تَسْمَعُونَ إِنَّ السَّمَاءَ أَطَّتْ وَحَقَّ لَهَا أَنْ تَئِطَّ مَا فِيهَا مَوْضِعُ أَرْبَعِ أَصَابِعَ إِلَّا وَمَلَكٌ وَاضِعٌ جَبْهَتَهُ سَاجِدًا لِلَّهِ وَاللَّهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا وَمَا تَلَذَّذْتُمْ بِالنِّسَاءِ عَلَى الْفُرُشَاتِ وَلَخَرَجْتُمْ إِلَى الصُّعُدَاتِ تَجْأَرُونَ إِلَى اللَّهِ وَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ شَجَرَةً تُعْضَدُ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل

 

تمہید کتاب  (

باب: غم اور رونا

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

4190.   حضرت ابوذر ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میں وہ کچھ دیکھتا ہوں جو تمہیں نظر نہیں آتا اور میں وہ کچھ سنتا ہوں جو تمہیں سنائی نہیں دیتا۔ آسمان چرچراتا ہے اور اس کا حق ہے کہ چرچرائے۔ اس میں چار انگلیوں کی جگہ بھی خالی نہیں مگر (بلکہ ہر جگہ) کوئی نہ کوئی فرشتہ اپنی پیشانی رکھے ہوئے اللہ کو سجدہ کر رہا ہے۔ قسم ہے اللہ کی! اگر تمہیں وہ کچھ معلوم ہو جائے جو مجھے معلوم ہے تو تم تھوڑا ہنسو اور زیادہ روؤ اور بستروں پر عورتوں سے لطف اندوز نہ ہو سکو اور تم بآواز بلند اللہ سے فریاد کرتے ہوئے میدانوں میں نکل جاؤ۔‘‘ قسم ہے اللہ کی! میرا جی چاہتا ہے (کاش!) میں ایک درخت ہوتا جسے کاٹ دیا جاتا۔