موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الزُّهْدِ (بَابُ الْأَمَلِ وَالْأَجَلِ)
حکم : صحیح
4231 . حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِي يَعْلَى عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ خَطَّ خَطًّا مُرَبَّعًا وَخَطًّا وَسَطَ الْخَطِّ الْمُرَبَّعِ وَخُطُوطًا إِلَى جَانِبِ الْخَطِّ الَّذِي وَسَطَ الْخَطِّ الْمُرَبَّعِ وَخَطًّا خَارِجًا مِنْ الْخَطِّ الْمُرَبَّعِ فَقَالَ أَتَدْرُونَ مَا هَذَا قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ هَذَا الْإِنْسَانُ الْخَطُّ الْأَوْسَطُ وَهَذِهِ الْخُطُوطُ إِلَى جَنْبِهِ الْأَعْرَاضُ تَنْهَشُهُ أَوْ تَنْهَسُهُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ فَإِنْ أَخْطَأَهُ هَذَا أَصَابَهُ هَذَا وَالْخَطُّ الْمُرَبَّعُ الْأَجَلُ الْمُحِيطُ وَالْخَطُّ الْخَارِجُ الْأَمَلُ
سنن ابن ماجہ:
کتاب: زہد سے متعلق احکام و مسائل
باب: امیدوار اور اجل
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
4231. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ایک چوکور شکل کا خط کھنچا۔ اور ایک خط اس چوکور کے درمیا ن میں کھنچا۔ اور چوکور خط کے درمیا ن میں جو خط اور کھنچے۔ اور ایک خط اس چوکور سے نکلتا ہوا کھنچا۔ پھر فرمایا: کیا تمھیں معلوم ہے یہ کیا ہے صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ معلوم ہے- آپ ﷺ نے فرمایا: یہ درمیا نی خط انسا ن ہے۔ یہ اس کے پہلو کے خطوط حوادث ہیں۔ جو ہر جگہ سے آ کر اسے نوچتے ہیں اگر وہ اس حادثے سے بچ جائے تو وہ اسے پکڑ لیتا ہے۔ اور یہ چوکور خط موت کا ہے جس نے اسے گھیر رکھا ہے۔ اور یہ خط جو با ہر نکل رہا ہے۔ اس کی امیدیں (اور آرزوئیں) ہیں۔