قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ الطَّهَارَةِ وَسُنَنِهَا (بَابُ الصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الَّذِي يُجَامِعُ فِيهِ)

حکم : حسن

ترجمۃ الباب:

541.   حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْرَقُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى الْخُشَنِيُّ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ مَاءً فَصَلَّى بِنَا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهِ قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُصَلِّي بِنَا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ قَالَ نَعَمْ أُصَلِّي فِيهِ وَفِيهِ أَيْ قَدْ جَامَعْتُ فِيهِ

سنن ابن ماجہ:

کتاب: طہارت کے مسائل اور اس کی سنتیں

 

کتاب تمہید  (

باب: ہم بستری کے وقت جو کپڑا پہنا ہو‘اسی کپڑے میں نماز پڑھنا جائز ہے

)
 

مترجم: فضیلۃ الشیخ مولانا محمد عطاء اللہ ساجد (دار السلام)

541.   حضرت ابو درداء ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ (گھر سے) باہر تشریف لائے اور آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا۔ آپ نے ایک ہی کپڑا زیب تک کر کے ہمیں نماز پڑھائی جب کہ آپ نے اس کے دونوں کنارے مخالف سمتوں میں ڈال رکھے تھے۔ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو عمر بن خطاب ؓ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں ایک کپڑا اوڑھ کر نماز پڑھا دیتے ہیں؟ فرمایا: ’’ہاں، میں اس کو پہن کر نماز پڑھ لیتا ہوں، اگرچہ اسے پہن کر مباشرت بھی کی ہو۔‘‘