Ibn-Majah:
The Book of the Sunnah
(Chapter: Regarding Faith )
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
ترجمۃ الباب:
67.
حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: ’’تم میں سے کوئی شخص ایمان دار نہیں ہو سکتا حتٰی کہ میں اسے اس کی اولاد، والد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب ہو جاؤں۔‘‘
تشریح:
(1) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ایمان کی بنیاد ہے جس قدر محبت پختہ ہو گی، اسی قدر ایمان بھی زیادہ ہو گا۔ محبت میں کمی بیشی ایمان میں کمی بیشی کی دلیل ہے۔ (2) محبت کا معیار زبانی دعویٰ نہیں بلکہ اطاعت ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّـهَ فَاتَّبِعُونِي﴾(آل عمران:31) ’’کہہ دیجئے اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو۔‘‘ (3) اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت دوسروں سے زیادہ ہونے کا پتہ تب چلتا ہے جب اولاد کی محبت، والدین کی محبت یا کسی بزرگ یا دوست کی محبت کسی ایسے کام کا تقاضا کرے جس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہو، اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت زیادہ ہو گی تو دوسروں کی ناراضی کی پروا نہیں ہو گی بلکہ انسان دوسروں کو ناراض کر کے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم اور اسوہ پر عمل کرے گا، اگر دوسروں کی محبت زیادہ ہو گی تو شریعت کی مخالفت کا ارتکاب کر کے انہیں خوش کرنے کی کوشش کی جائے گی جو ایمان کے مطلوبہ معیار کے خلاف ہے۔ اسی طرح قوم اور قبیلہ کے رسم و رواج کی بھی یہی حیثیت ہے۔
حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: ’’تم میں سے کوئی شخص ایمان دار نہیں ہو سکتا حتٰی کہ میں اسے اس کی اولاد، والد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب ہو جاؤں۔‘‘
حدیث حاشیہ:
(1) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ایمان کی بنیاد ہے جس قدر محبت پختہ ہو گی، اسی قدر ایمان بھی زیادہ ہو گا۔ محبت میں کمی بیشی ایمان میں کمی بیشی کی دلیل ہے۔ (2) محبت کا معیار زبانی دعویٰ نہیں بلکہ اطاعت ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّـهَ فَاتَّبِعُونِي﴾(آل عمران:31) ’’کہہ دیجئے اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو۔‘‘ (3) اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت دوسروں سے زیادہ ہونے کا پتہ تب چلتا ہے جب اولاد کی محبت، والدین کی محبت یا کسی بزرگ یا دوست کی محبت کسی ایسے کام کا تقاضا کرے جس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہو، اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت زیادہ ہو گی تو دوسروں کی ناراضی کی پروا نہیں ہو گی بلکہ انسان دوسروں کو ناراض کر کے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم اور اسوہ پر عمل کرے گا، اگر دوسروں کی محبت زیادہ ہو گی تو شریعت کی مخالفت کا ارتکاب کر کے انہیں خوش کرنے کی کوشش کی جائے گی جو ایمان کے مطلوبہ معیار کے خلاف ہے۔ اسی طرح قوم اور قبیلہ کے رسم و رواج کی بھی یہی حیثیت ہے۔
ترجمۃ الباب:
حدیث ترجمہ:
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کی اولاد، اس کے والد، اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں“ ۱؎ ۔
حدیث حاشیہ:
۱؎ : معلوم ہوا کہ جب تک ساری دنیا کے رسم و رواج اور عادات و رسوم، اور اپنی آل اولاد اور ماں باپ سے زیادہ سنت کی محبت نہ ہو اس وقت تک ایمان کامل نہیں، پھر جتنی اس محبت میں کمی ہو گی اتنی ہی ایمان میں کمی ہو گی۔
ترجمۃ الباب:
حدیث ترجمہ:
It was narrated that Anas bin Mâlik said: “The Messenger of Allah (ﷺ) s.a.w.w said: ‘None of you truly believes until I am more beloved to him than his child, his father and all the people.” (Sahih)