موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ الصَّلَاةِ (بَابُ مَنْ نَامَ عَنِ الصَّلَاةِ أَوْ نَسِيَهَا)
حکم : صحیح
698 . حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ ذَكَرُوا تَفْرِيطَهُمْ فِي النَّوْمِ فَقَالَ نَامُوا حَتَّى طَلَعَتْ الشَّمْسُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ صَلَاةً أَوْ نَامَ عَنْهَا فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا وَلِوَقْتِهَا مِنْ الْغَدِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ فَسَمِعَنِي عِمْرَانُ بْنُ الْحُصَيْنِ وَأَنَا أُحَدِّثُ بِالْحَدِيثِ فَقَالَ يَا فَتًى انْظُرْ كَيْفَ تُحَدِّثُ فَإِنِّي شَاهِدٌ لِلْحَدِيثِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَمَا أَنْكَرَ مِنْ حَدِيثِهِ شَيْئًا
سنن ابن ماجہ:
کتاب: نماز سے متعلق احکام ومسائل
باب: نیند یابھول کی وجہ سے نماز چھوٹ جانے کا بیان
)مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
698. حضرت ابو قتادہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: صحابہ کرام ؓ نے نیند میں اپنی تقصیر کا ذکر کیا، یعنی یہ تقصیر کہ وہ سورج نکلنے تک سوئے رہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’سوتے ہوئے (تاخیر ہو جانے میں) کوئی کوتاہی نہیں، تقصیر (گناہ) تو جاگتے ہوئے (تاخیر کر دینے میں) ہوتی ہے۔ جب کوئی شخص نماز پڑھنا بھول جائے یا سویا رہ جائے تو جب اسے یاد آئے (یا جب بیدار ہو) اسی وقت نماز پڑھ لے اور اگلے دن اس کے وقت پر ادا کرے۔‘‘ (حضرت ابو قتادہ ؓ کے شاگرد) حضرت عبد اللہ بن رباح نے کہا: میں یہ حدیث بیان کر رہا تھا کہ حضرت عمران بن حصین ؓ نے بھی سن لیا‘ انہوں نے فرمایا: لڑکے! توجہ سے حدیث بیان کرو‘ اس حدیث (کے ارشاد فرمائے جانے) کے موقع پر میں بھی رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر تھا۔ (میں نے حدیث بیان کی تو) انہوں نے حدیث میں کسی غلطی کی نشان دہی نہیں کی۔