Ibn-Majah:
The Book of the Sunnah
(Chapter: Regarding The Divine Decree (Qadar))
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
ترجمۃ الباب:
88.
حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’دل کی مثال ایک پر کی سی ہے، جسے ہوائیں چٹیل میدان میں الٹا پلٹاتی رہتی ہیں۔‘‘
تشریح:
(1) پرندے کا اکھڑا ہوا ایک پر بہت ہلکی چیز ہوتا ہے جسے معمولی ہوا بھی سیدھے سے الٹا اور الٹے سے سیدھا کر سکتی ہے۔ اگر وہ کسی کھلے میدان میں ہو تو ظاہر ہے ہوا اس پر زیادہ اثرانداز ہو گی کیونکہ وہاں ہوا کے اثر کو کم کرنے والی کوئی رکاوٹ نہیں ہو گی۔ اور وہ بڑی تیزی سے الٹ پلٹ ہوتا ادھر سے ادھر اور یہاں سے وہاں اڑتا پھرے گا۔ انسان کے دل کی بھی یہی حالت ہے۔ اس پر مختلف جذبات و احساسات تیزی سے اثر انداز ہوتے ہیں جس کی وجہ سے وہ کبھی نیکی کی طرف مائل ہوتا ہے کبھی گناہ کی طرف، کبھی اس میں محبت کے لطیف جذبات میں موجزن ہوتے ہیں کبھی نفرت کی آندھی چڑھ آتی ہے۔ دل کی اس کیفیت سےفائدہ اٹھا کر شیطان اسے گناہوں میں ملوث کر دیتا ہے، لہذا کسی کو نیکی کی راہ پر گامزن دیکھ کر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ ضرور جنت میں جائے گا اور نہ کسی کو گناہوں میں غرق دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ لازما جہنمی ہے، اس لیے نیکی کی توفیق ملے تو اللہ سے استقامت کی دعا کرنی چاہیے اور گناہ ہو جائے تو اشکِ ندامت کا نذرانہ لے کر اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہونا چاہیے، ایسا نہ ہو کہ گناہوں کی آندھی اسے رحمت سے بہت دور لے جائے۔ (2) چونکہ دل کی کیفیات کسی بھی لمحے تبدیل ہو سکتی ہیں، اس لیے انسان اپنے انجام کے بارے میں مطمئن نہیں ہو سکتا۔ ضروری ہے کہ ایمان پر وفات کی دعا کی جائے اور ہر قدم پر اللہ تعالیٰ سے ہدایت و رہنمائی کی درخواست کی جائے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوں دعا کرتے تھے: (يَا مُصَرِّفَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِيْ عَلٰي طَاعَتِكَ)(مسند احمد:2؍418) ’’اے دلوں کو پھیرنے والے! میرا دل اپنی اطاعت و فرمانبرداری پر ثابت رکھ۔‘‘
حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’دل کی مثال ایک پر کی سی ہے، جسے ہوائیں چٹیل میدان میں الٹا پلٹاتی رہتی ہیں۔‘‘
حدیث حاشیہ:
(1) پرندے کا اکھڑا ہوا ایک پر بہت ہلکی چیز ہوتا ہے جسے معمولی ہوا بھی سیدھے سے الٹا اور الٹے سے سیدھا کر سکتی ہے۔ اگر وہ کسی کھلے میدان میں ہو تو ظاہر ہے ہوا اس پر زیادہ اثرانداز ہو گی کیونکہ وہاں ہوا کے اثر کو کم کرنے والی کوئی رکاوٹ نہیں ہو گی۔ اور وہ بڑی تیزی سے الٹ پلٹ ہوتا ادھر سے ادھر اور یہاں سے وہاں اڑتا پھرے گا۔ انسان کے دل کی بھی یہی حالت ہے۔ اس پر مختلف جذبات و احساسات تیزی سے اثر انداز ہوتے ہیں جس کی وجہ سے وہ کبھی نیکی کی طرف مائل ہوتا ہے کبھی گناہ کی طرف، کبھی اس میں محبت کے لطیف جذبات میں موجزن ہوتے ہیں کبھی نفرت کی آندھی چڑھ آتی ہے۔ دل کی اس کیفیت سےفائدہ اٹھا کر شیطان اسے گناہوں میں ملوث کر دیتا ہے، لہذا کسی کو نیکی کی راہ پر گامزن دیکھ کر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ ضرور جنت میں جائے گا اور نہ کسی کو گناہوں میں غرق دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ لازما جہنمی ہے، اس لیے نیکی کی توفیق ملے تو اللہ سے استقامت کی دعا کرنی چاہیے اور گناہ ہو جائے تو اشکِ ندامت کا نذرانہ لے کر اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہونا چاہیے، ایسا نہ ہو کہ گناہوں کی آندھی اسے رحمت سے بہت دور لے جائے۔ (2) چونکہ دل کی کیفیات کسی بھی لمحے تبدیل ہو سکتی ہیں، اس لیے انسان اپنے انجام کے بارے میں مطمئن نہیں ہو سکتا۔ ضروری ہے کہ ایمان پر وفات کی دعا کی جائے اور ہر قدم پر اللہ تعالیٰ سے ہدایت و رہنمائی کی درخواست کی جائے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوں دعا کرتے تھے: (يَا مُصَرِّفَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِيْ عَلٰي طَاعَتِكَ)(مسند احمد:2؍418) ’’اے دلوں کو پھیرنے والے! میرا دل اپنی اطاعت و فرمانبرداری پر ثابت رکھ۔‘‘
ترجمۃ الباب:
حدیث ترجمہ:
ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دل کی مثال اس پر کی طرح ہے جسے ہوائیں میدان میں الٹ پلٹ کرتی رہتی ہیں“۱؎۔
حدیث حاشیہ:
۱؎ : اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو خیر و شر دل میں آتا ہے سب تقدیر الہٰی سے ہے۔
ترجمۃ الباب:
حدیث ترجمہ:
It was narrated that Abu Musa Al-Ash’ari said: “The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The likeness of the heart is that of a feather blown about by the wind in the desert.’” (Sahih)