قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

سنن ابن ماجه: كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا (بَابُ الْمُرُورِ بَيْنَ يَدَيْ الْمُصَلِّي)

حکم : ضعیف

ترجمة الباب:

946 .   حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُكُمْ مَا لَهُ فِي أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْ أَخِيهِ، مُعْتَرِضًا فِي الصَّلَاةِ، كَانَ لَأَنْ يُقِيمَ مِائَةَ عَامٍ، خَيْرٌ لَهُ مِنَ الْخَطْوَةِ الَّتِي خَطَاهَا»

سنن ابن ماجہ:

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ 

  (

باب: نمازی کے آگے سے گزرنے کا گناہ

)
 

مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)

946.   حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے نبی ﷺ نے فرمایا: ’’اگر کسی کو معلوم ہو کہ اپنے بھائی کے سامنے سے ایک طرف سے دوسری طرف گزرنے پر جب کہ وہ نماز پڑھ رہا ہو کتنا گناہ ہے تو وہ اپنے اٹھائے ہوئے ایک قدم کی نسبت سو سال تک ٹھہرے رہنا بہتر سمجھے۔‘‘