موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی
سنن ابن ماجه: كِتَابُ إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةُ فِيهَا (بَابُ مَنْ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ)
حکم : صحیح
980 . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنُ رَجَاءٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَوْسَ بْنُ ضَمْعَجٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهُ، فَإِنْ كَانَتْ قِرَاءَتُهُمْ سَوَاءً، فَلْيَؤُمَّهُمْ أَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً، فَإِنْ كَانَتِ الْهِجْرَةُ سَوَاءً، فَلْيَؤُمَّهُمْ أَكْبَرُهُمْ سِنًّا، وَلَا يُؤُمُّ الرَّجُلُ فِي أَهْلِهِ، وَلَا فِي سُلْطَانِهِ، وَلَا يُجْلَسْ عَلَى تَكْرِمَتِهِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا بِإِذْنٍ، أَوْ بِإِذْنِهِ»
سنن ابن ماجہ:
کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ
باب: امامت کا زیادہ حق دار کون ہے؟
مترجم: ١. فضيلة الشيخ محمد عطاء الله ساجد (دار السّلام)
980. حضرت ابو مسعود ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’لوگوں کو وہ آدمی نماز پڑھائے جو اللہ کی کتاب (قرآن مجید) زیادہ پڑھا ہوا ہو۔ اگر وہ قراءت میں برابر ہوں تو پھر وہ شخص امام بنے جس نے ہجرت (دوسروں سے) پہلے کی ہو۔ اگر ہجرت بھی اکٹھے کی ہو تو وہ شخص نماز پڑھائے جو ان میں سے عمر میں بڑا ہو ،اور کوئی شخص کسی کے گھر میں یا اس کے دائرہٴ اقتدار میں امامت نہ کروائے اور اس کے گھر میں اس کی اجازت کے بغیر اس کی مخصوص نشست گاہ پر نہ بیٹھے۔