قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: قولی

صحيح مسلم: كِتَابُ الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ (بَابٌ «الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ، وَجَنَّةُ الْكَافِرِ»)

حکم : أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة 

2959. حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنْ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقُولُ الْعَبْدُ مَالِي مَالِي إِنَّمَا لَهُ مِنْ مَالِهِ ثَلَاثٌ مَا أَكَلَ فَأَفْنَى أَوْ لَبِسَ فَأَبْلَى أَوْ أَعْطَى فَاقْتَنَى وَمَا سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ ذَاهِبٌ وَتَارِكُهُ لِلنَّاسِ

صحیح مسلم:

کتاب: زہد اور رقت انگیز باتیں

تمہید کتاب (باب: دنیا میں مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے)

مترجم: ١. پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

2959.

حفص بن میسرو نے علاء (بن عبدالرحمان) سے، انھوں نے اپنے والد سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرۃء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’بندہ کہتا ہے میرا مال، میرا مال اس لیے تو اس کے مال سے صر ف تین چیزیں ہیں۔ جو اس نے کھایا اور فنا کردیا، جو پہنا اور بوسیدہ کردیا، یا جو کسی کو دے کر (آخرت کے لیے) ذخیرہ کرلیا۔ اس کے سوا جو کچھ بھی ہے تو وہ (بندہ) جانے والا اور اس (مال) کو لوگوں کے لیے چھوڑنے والا ہے۔‘‘