قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

صحيح مسلم: كِتَابُ الزَّكَاةِ (بَابُ إِعْطَاءِ مَنْ سَأَلَ بِفُحْشٍ وَغِلْظَةٍ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1058.   حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ أَنَّهُ قَالَ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةً وَلَمْ يُعْطِ مَخْرَمَةَ شَيْئًا فَقَالَ مَخْرَمَةُ يَا بُنَيَّ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ قَالَ ادْخُلْ فَادْعُهُ لِي قَالَ فَدَعَوْتُهُ لَهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ وَعَلَيْهِ قَبَاءٌ مِنْهَا فَقَالَ خَبَأْتُ هَذَا لَكَ قَالَ فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ رَضِيَ مَخْرَمَةُ

صحیح مسلم:

کتاب: زکوٰۃ کے احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: جن کے دلوں میں الفت ڈالنی مقصود ہو اور جن کا ایمان نہ ہونے کی بنا پرضائع ہونے کا خطرہ ہو‘ان کو دینا ‘جہالت کی بناپر مذموم طریقے سے مانگنے والے کو برداشت کرنا ‘اور خوارج اور ان کے بارے میں احکام شریعت

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

1058.   لیث نے (عبداللہ) بن ابی ملیکہ سے اور انھوں نے حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے قبائیں تقسیم کیں اور مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کوئی چیز نہ دی، تو مخرمہ نے کہا:میرے بیٹے! مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے جاؤ، تو میں ان کے ساتھ گیا انھوں نے کہا: اندر جاؤ اور میری خاطر آپﷺ کو بلا لاؤ میں نے ان کی خاطر آپﷺ کو بلایا تو آپﷺ اس طرح اس کی طرف آئے کہ آپ (کے کندھے) پر ان ( قباؤں) میں سے ایک قباء تھی، آپﷺ نے فرمایا: ’’یہ میں نے تمھا رے لیے چھپا کر رکھی تھی‘‘ آپ ﷺ نے اس کی طرف نظر اٹھا کر فرمایا: ’’مخرمہ راضی ہو گیا۔‘‘