قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

صحيح مسلم: كِتَابُ الصِّيَامِ (بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1127.   حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: دَخَلَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ عَلَى عَبْدِ اللهِ، وَهُوَ يَتَغَدَّى فَقَالَ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ ادْنُ إِلَى الْغَدَاءِ، فَقَالَ: أَوَلَيْسَ الْيَوْمُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ؟ قَالَ: وَهَلْ تَدْرِي مَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ؟ قَالَ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ: «إِنَّمَا هُوَ يَوْمٌ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ شَهْرُ رَمَضَانَ، فَلَمَّا نَزَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ تُرِكَ» وقَالَ أَبُو كُرَيْبٍ تَرَكَهُ.

صحیح مسلم:

کتاب: روزے کے احکام و مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: عاشورہ کے دن کا روزہ

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

1127.   ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے ابو معاویہ سے حدیث بیان کی، انھوں نے اعمش سے، انھوں نے عمارۃ سے  اور انھوں نے عبدالرحمان بن یزید سے روایت کی، کہا: اشعث بن قیس حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس آئے جبکہ وہ دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے، انھوں نے کہا: ابو محمد! دوپہر کے کھانے کے قریب آ جاؤ۔ تو اشعت نے کہا: کیا آج عاشورہ کا دن نہیں ہے؟ انھوں نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ انھوں نے جواب دیا: وہ ایسا دن ہے جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے مہینے کے (روزوں کا حکم) نازل ہونے سے پہلے روزہ رکھا کرتے تھے۔ جب ماہ رمضان کا حکم نازل ہو گیا تو اس (عاشورہ) کو چھوڑ دیا گیا۔