قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

صحيح مسلم: كِتَابُ الرِّضَاعِ (بَابُ تَحْرِيمِ ابْنَةِ الْأَخِ مِنَ الرَّضَاعَةِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1446.   حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا لَكَ تَنَوَّقُ فِي قُرَيْشٍ وَتَدَعُنَا؟ فَقَالَ: «وَعِنْدَكُمْ شَيْءٌ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، بِنْتُ حَمْزَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي، إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ

صحیح مسلم:

کتاب: رضاعت کے احکام ومسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: رضاعی بھائی کی بیٹی (سے نکاح کرنا)حرام ہے

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

1446.   ابومعاویہ نے ہمیں اعمش سے خبر دی، انہوں نے سعد بن عبیدہ سے، انہوں نے ابوعبدالرحمٰن سے اور انہوں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے عرض کی: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! کیا وجہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم (نکاح کے لیے) قریش (کی عورتوں) کے انتخاب کا اہتمام کرتے ہیں اور ہمیں (بنو ہاشم کو) چھوڑ دیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ’’تمہارے پاس کوئی شے (رشتہ) ہے؟‘‘ میں نے عرض کی: جی ہاں، حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’وہ میرے لیے حلال نہیں (کیونکہ) وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔‘‘