قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

صحيح مسلم: كِتَابُ الرِّضَاعِ (بَابُ جَوَازِ هِبَتِهَا نَوْبَتَهَا لِضُرَّتِهَا)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1464.   حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كُنْتُ أَغَارُ عَلَى اللَّاتِي وَهَبْنَ أَنْفُسَهُنَّ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَقُولُ: وَتَهَبُ الْمَرْأَةُ نَفْسَهَا، فَلَمَّا أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ} [الأحزاب: 51] " قَالَتْ: قُلْتُ: «وَاللهِ، مَا أَرَى رَبَّكَ إِلَّا يُسَارِعُ لَكَ فِي هَوَاكَ»

صحیح مسلم:

کتاب: رضاعت کے احکام ومسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: اپنی باری اپنی سوکن کو ہبہ کرنا جائز ہے

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

1464.   ابواسامہ نے ہمیں ہشام سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد (عروہ) سے، انہوں نے حضرت عائشہ‬ رضی اللہ تعالیٰ عنہا س‬ے روایت کی، انہوں نے کہا: میں ان عورتوں پر غیرت کرتی تھی جو اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بطور ہبہ پیش کرتی تھیں، میں کہتی: کیا کوئی عورت بھی خود کو ہبہ کر سکتی ہے؟ جب اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا: (آپ ان عورتوں میں سے جسے چاہیں پیچھے کر دیں اور جسے چاہیں اپنے پاس جگہ دیں اور جسے آپ نے الگ کر دیا تھا ان میں سے بھی جسے آپ کا دل چاہے لائیں۔) کہا: تو میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رب کو نہیں دیکھتی مگر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش (کو پورا کرنے) میں جلدی کرتا ہے۔