قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

صحيح مسلم: كِتَابُ الْبُيُوعِ (بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ إِلَّا فِي الْعَرَايَا)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1542.   حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ»، وَالْمُزَابَنَةُ: بَيْعُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا، وَبَيْعُ الْكَرْمِ بِالزَّبِيبِ كَيْلًا

صحیح مسلم:

کتاب: لین دین کے مسائل

 

کتاب تمہید  (

باب: عرایا کے سوا تازہ کھجور کو خشک کھجور کے عوض بیچنا حرام ہے

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

1542.   امام مالک نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے مزابنہ سے منع فرمایا اور مزابنہ سے مراد (کھجور کے تازہ) پھل کو خشک کھجور کی ماپی (یا تولی ہوئی) مقدار کے عوض اور انگور کو منقیٰ کی ماپی (یا تولی ہوئی) مقدار کے عوض فروخت کرنا ہے۔