قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

صحيح مسلم: كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ وَالمُزَارَعَةِ (بَابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ الَّذِي يَكُونُ بِالْفَلَاةِ وَيُحْتَاجُ إِلَيْهِ لِرَعْيِ الْكَلَأِ، وَتَحْرِيمِ مَنْعِ بَذْلِهِ، وَتَحْرِيمِ بَيْعِ ضِرَابِ الْفَحْلِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1566.   حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُمْنَعَ بِهِ الْكَلَأُ».

صحیح مسلم:

کتاب: سیرابی کے عوض پیدوار میں حصہ داری اور مزارعت

 

کتاب تمہید  (

باب: ایسا زائد پانی بیچنا حرام ہے جو بیابان میں ہو اور گھاس چرانے کے لیے اس کی ضرورت ہو‘اسے استعمال کرنے سے روکنا (بھی)حرام ہے ‘اور نرکی جفتی کی اجرت لینا حرام ہے

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

1566.   اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’زائد پانی کو نہ روکا جائے کہ اس کے ذریعے سے گھاس روکی جائے۔‘‘