صحيح مسلم: كِتَابُ الْإِمَارَةِ (بَابُ الْأَمْرِ بِلُزُومِ الْجَمَاعَةِ عِنْدَ ظُهُورِ الْفِتَنِ وتحذير الدعاة إلى الكفر)

حکم :

ترجمۃ الباب:

1849.   حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِي رَجَاءٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ يَرْوِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ رَأَى مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلْيَصْبِرْ فَإِنَّهُ مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا فَمَاتَ فَمِيتَةٌ جَاهِلِيَّةٌ

صحیح مسلم:

کتاب: امور حکومت کا بیان

 

کتاب تمہید  (

باب: فتنے نمودار ہونے کے وقت اور ہر حال میں مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنے کا حکم‘اطاعت سے نکل جانے اور مسلمانوں کی جمیعت کو چھوڑنے کی حرمت

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

1849.   حماد بن زید نے ہمیں جعد ابوعثمان سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابو رجاء سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے یہ حدیث روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص اپنے امیر میں ایسی بات دیکھے جو اسے ناپسند ہے تو صبر کرے، کیونکہ جو شخص جماعت سے ایک بالشت بھی ہٹا اور (اسی حالت میں) مر گیا تو یہ جاہلیت کی موت ہے۔‘‘