قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

صحيح مسلم: كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ (بَابُ تَحْرِيمِ أَكْلِ لَحْمِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1939.   وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «لَا أَدْرِي إِنَّمَا نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ كَانَ حَمُولَةَ النَّاسِ، فَكَرِهَ أَنْ تَذْهَبَ حَمُولَتُهُمْ، أَوْ حَرَّمَهُ فِي يَوْمِ خَيْبَرَ لُحُومَ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ»

صحیح مسلم:

کتاب: شکار کرنے،ذبح کیےجانے والے اور ان جانوروں کا بیان جن کا گوشت کھایا جاسکتا ہے

 

کتاب تمہید  (

باب: پالتو گدھوں کاگوشت کھانے کی حرمت

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

1939.   حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہا: مجھے پتہ نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان (پالتو گدھوں کا گوشت کھانے) سے اس بناء پر منع فرمایا تھا کہ وہ لوگوں کے بوجھ اٹھانے والے ہیں اور آپ نہیں چاہتے تھے کہ ان کا بوجھ اٹھانے کا ذریعہ ختم ہوجائے یا آپ نے (ویسے ہی) جنگ خیبر کے دن پالتو گدھوں کے گوشت کوحرام قرار دیا۔ (یعنی ایسی کسی خاص مناسبت کے بغیر، جب دیکھا کہ لوگ اسے کھانا چاہتے ہیں تو اس کی حرمت کا اعلان کرادیا۔)