قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

صحيح مسلم: كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنَ الْحَيَوَانِ (بَابُ إِبَاحَةِ الضَّبِّ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

1947.   وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ ابْنُ نَافِعٍ: أَخْبَرَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: «أَهْدَتْ خَالَتِي أَمُّ حُفَيْدٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمْنًا وَأَقِطًا وَأَضُبًّا، فَأَكَلَ مِنَ السَّمْنِ وَالْأَقِطِ، وَتَرَكَ الضَّبَّ تَقَذُّرًا، وَأُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَوْ كَانَ حَرَامًا، مَا أُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

صحیح مسلم:

کتاب: شکار کرنے،ذبح کیےجانے والے اور ان جانوروں کا بیان جن کا گوشت کھایا جاسکتا ہے

 

کتاب تمہید  (

باب: سانڈے کے گو شت کا جواز

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

1947.   سعید بن جبیر نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میری خالہ ام حفید رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں گھی پنیر اور سانڈے ہدیہ کیے۔ آپ ﷺ نے گھی اور پنیر میں سے تناول فرمایا اور سانڈے کو کراہت محسوس کرتے ہوئے چھوڑ دیا۔ یہ(سانڈا) رسول اللہ ﷺ کے دسترخوان پر کھایا گیا۔ اگر یہ حرام ہوتا تو رسول اللہ ﷺ کے دسترخوان پر نہ کھایا جاتا۔