قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

صحيح مسلم: كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ (بَابُ استِحبَابِ تَخمِیرِ الْإِنَاءِ وَهُوَ تَغْطِيَةِ وَإِيكَاءِ السِّقَاءِ، وَإِغْلَاقِ الْأَبْوَابِ، وَذِكْرِ اسْمِ اللهِ عَلَيْهَا، وَإِطْفَاءِ السِّرَاجِ وَالنَّارِ عِنْدَ النَّوْمِ، وَكَفِّ الصِّبْيَانِ وَالْمَوَاشِي بَعْدَ الْمَغْرِبِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2014.   و حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ اللَّيْثِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ غَطُّوا الْإِنَاءَ وَأَوْكُوا السِّقَاءَ فَإِنَّ فِي السَّنَةِ لَيْلَةً يَنْزِلُ فِيهَا وَبَاءٌ لَا يَمُرُّ بِإِنَاءٍ لَيْسَ عَلَيْهِ غِطَاءٌ أَوْ سِقَاءٍ لَيْسَ عَلَيْهِ وِكَاءٌ إِلَّا نَزَلَ فِيهِ مِنْ ذَلِكَ الْوَبَاءِ

صحیح مسلم:

کتاب: مشروبات کا بیان

 

کتاب تمہید  (

باب: مغرب کے بعد برتن کو ڈھانک دینا،مشکیزے کا منہ باندھ دینا،(گھر کے) دروازے بند کردینا،ان پر اللہ کا نام پڑھنا،نیند کے وقت چراغ اور آگ بجھا دینا اور بچوں اور جانوروں کو اندر روک لینا مستحب ہے

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

2014.   ہاشم بن قاسم نے کہا: ہمیں لیث بن سعد نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے یزید بن عبداللہ بن اسامہ بن ہاد لیثی نے یحییٰ بن سعید سے، انھوں نے جعفر بن عبداللہ بن حکم سے، انھوں نے قعقاع بن حکیم سے، انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ’’برتن ڈھانک دو، مشکیزے کامنہ باندھ دو، کیونکہ سال میں ایک رات ایسی ہوتی ہے جس میں وبا نازل ہوتی ہے۔ پھر جس بھی ان ڈھکے برتن اور منہ کھلے مشکیزے کے پاس سے گزرتی ہے۔ تو اس وبا میں سے (کچھ حصہ) اس میں اُتر جاتا ہے۔‘‘