قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

صحيح مسلم: كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ (بَابُ نَهْيِ الْآكِلِ مَعَ جَمَاعَةٍ عَنْ قِرَانِ تَمْرَتَيْنِ وَنَحْوِهِمَا فِي لُقْمَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ أَصْحَابِهِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2045.   حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ جَبَلَةَ بْنَ سُحَيْمٍ قَالَ كَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَرْزُقُنَا التَّمْرَ قَالَ وَقَدْ كَانَ أَصَابَ النَّاسَ يَوْمَئِذٍ جَهْدٌ وَكُنَّا نَأْكُلُ فَيَمُرُّ عَلَيْنَا ابْنُ عُمَرَ وَنَحْنُ نَأْكُلُ فَيَقُولُ لَا تُقَارِنُوا فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْإِقْرَانِ إِلَّا أَنْ يَسْتَأْذِنَ الرَّجُلُ أَخَاهُ قَالَ شُعْبَةُ لَا أُرَى هَذِهِ الْكَلِمَةَ إِلَّا مِنْ كَلِمَةِ ابْنِ عُمَرَ يَعْنِي الِاسْتِئْذَانَ

صحیح مسلم:

کتاب: مشروبات کا بیان

 

کتاب تمہید  (

باب: کھانے میں شریک ساتھیوں کی اجازت کے بغیر ایک لقمے میں دویازیادہ کھجوریں ملا (کر کھانے )کی ممانعت

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

2045.   محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے جبلہ بن سحیم سے سنا کہ عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما ہمیں کھجوروں کا راشن دیتے تھے، ان دنوں لوگ قحط سالی کا شکار تھے۔ اور ہم (کھجوریں) کھاتے تھے۔ ہم کھا رہے ہوتے تو حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما ہمارے قریب سے گزرتے اور فرماتے: اکٹھی دودوکھجوریں مت کھاؤ، رسول اللہ ﷺ نے اکٹھی دودو کھجوریں کھانے سے منع فرمایا ہے، سوائے اس کے کہ آدمی اپنے (ساتھ کھانے والے) بھائی سے اجازت لے۔ شعبہ نے کہا: میرا یہی خیال ہے کہ یہ جملہ یعنی اجازت لینا حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اپنا قول ہے۔ (انھوں نے اسے رسول اللہ ﷺ سے روایت نہیں کیا۔)