قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: فعلی

صحيح مسلم: كِتَابُ الْإِيمَانِ (بَابُ شَفَاعَةِ النَّبِيِّ ﷺ لِأَبِي طَالِبٍ وَالتَّخْفِيفِ عَنْهُ بِسَبَبِهِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

210.   وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُكِرَ عِنْدَهُ عَمُّهُ أَبُو طَالِبٍ فَقَالَ: «لَعَلَّهُ تَنْفَعُهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُجْعَلُ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ نَارٍ يَبْلُغُ كَعْبَيْهِ، يَغْلِي مِنْهُ دِمَاغُهُ».

صحیح مسلم:

کتاب: ایمان کا بیان

 

کتاب تمہید  (

باب: نبی اکرم ﷺ کی ابو طالب کے لیے سفارش اور آپ کی وجہ سے ان کے لیے (عذاب میں ) تخفیف

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

210.   حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ ﷺ کےسامنے آپ کے چچا ابو طالب کا تذکرہ کیا گیا، تو  آپ ﷺ نے فرمایا: ’’امید ہے قیامت کے دن میری سفارش ان کو نفع دے گی، اور انہیں اتھلی (کم گہری) آ گ میں ڈالا جائے گا، جو (بمشکل) ان کے ٹخنوں تک پہنچتی ہو گی، اس سے (بھی) ان کا دماغ کھولے گا۔‘‘