قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

صحيح مسلم: كِتَابُ السَّلَامِ (بَابُ النَّهْيِ عَنِ ابْتِدَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ بِالسَّلَامِ وَكَيْفَ يُرَدُّ عَلَيْهِمْ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2166.   حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ قَالَا حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَلَّمَ نَاسٌ مِنْ يَهُودَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَقَالَ وَعَلَيْكُمْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ وَغَضِبَتْ أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا قَالَ بَلَى قَدْ سَمِعْتُ فَرَدَدْتُ عَلَيْهِمْ وَإِنَّا نُجَابُ عَلَيْهِمْ وَلَا يُجَابُونَ عَلَيْنَا

صحیح مسلم:

کتاب: سلامتی اور صحت کابیان

 

کتاب تمہید  (

باب: اہل کتاب کو سلام کرنے میں ابتدا کی ممانعت اور ان کے سلام کا جواب کیسے دیا جا ئے

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

2166.   ابوزبیر نے کہا: انھوں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو کہتے ہوئے سنا : یہود میں سے کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کو سلام کیا اور کہا (السام عليك يا أبا القاسم) (ابو القاسم )آپ پر مو ت ہو! اس پر آپﷺ نے فرمایا: ’’تم پرہو۔‘‘ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہنے لگیں اور وہ غصے میں آ گئی تھیں۔ کیا آپ نے نہیں سنا، جو انھوں نے کہا ہے؟  آپﷺ نے فرمایا: ’’کیوں نہیں! میں نے سنا ہے اور میں نے ان کو جواب دے دیا ہےاور ان کے خلاف ہماری دعاقبول ہوتی ہے اور ہمارے خلا ف ان کی دعا قبول نہیں ہو تی۔‘‘