قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: شمائل

صحيح مسلم: كِتَابُ الْفَضَائِلِ (بَابُ كَمْ أَقَامَ النَّبِيُّ ﷺ بِمَكَّةَ وَالْمَدِينَةَ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2353.   وحَدَّثَنِي ابْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عَمَّارٍ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ: كَمْ أَتَى لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ مَاتَ؟ فَقَالَ: مَا كُنْتُ أَحْسِبُ مِثْلَكَ مِنْ قَوْمِهِ يَخْفَى عَلَيْهِ ذَاكَ، قَالَ قُلْتُ: إِنِّي قَدْ سَأَلْتُ النَّاسَ فَاخْتَلَفُوا عَلَيَّ، فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَعْلَمَ قَوْلَكَ فِيهِ، قَالَ: أَتَحْسُبُ؟ قَالَ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «أَمْسِكْ أَرْبَعِينَ، بُعِثَ لَهَا خَمْسَ عَشْرَةَ بِمَكَّةَ يَأْمَنُ وَيَخَافُ، وَعَشْرَ مِنْ مُهَاجَرِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ»

صحیح مسلم:

کتاب: أنبیاء کرامؑ کے فضائل کا بیان

 

کتاب تمہید  (

باب: مکہ اور مدینہ میں نبی کریم ﷺ کتنا عرصہ رہے؟

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

2353.   یزید بن زریع نے کہا: ہمیں یونس بن عبید نے بنو ہاشم کے آزاد کردہ غلام عمار سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے سوال کیا کہ وفات کے وقت رسول اللہ ﷺ (کی عمر مبارک) کے کتنے سال گزرے تھے؟ انھوں نے کہا: میں نہیں سمجھتا تھا کہ تم جیسے شخص پر، جو آپ ﷺ کی ہی قوم سے (متعلق) تھا، یہ بات مخفی ہو گی۔ کہا: میں نے عرض کی: میں نے لوگوں سے اس کے بارے میں سوال کیا تو میرے سامنے ان لوگوں نے باہم اختلاف کیا۔ تو مجھے اچھا معلوم ہوا کہ میں اس کے بارے میں آپ کا قول معلوم کروں، انھوں نے کہا:تم حساب کرسکتے ہو؟ کہا: میں نے عرض کی: جی ہاں، انھوں نے کہا: (پہلے) تو چالیس لو، جب آپ کو مبعوث کیا گیا، (پھر) پندرہ سال مکہ میں، کبھی امن میں اور کبھی خوف میں دس سال مدینہ کی طرف ہجرت سے (لے کر جمع کر لو۔)