قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

صحيح مسلم: كِتَابُ فَضَائِلِ الصَّحَابَةِؓ (بَابُ مِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِؓ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2387.   حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِي مَرَضِهِ " ادْعِي لِي أَبَا بَكْرٍ، أَبَاكِ، وَأَخَاكِ، حَتَّى أَكْتُبَ كِتَابًا، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَمَنَّى مُتَمَنٍّ وَيَقُولُ قَائِلٌ: أَنَا أَوْلَى، وَيَأْبَى اللهُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَّا أَبَا بَكْرٍ "

صحیح مسلم:

کتاب: صحابہ کرامؓ کے فضائل ومناقب

 

کتاب تمہید  (

باب: حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے فضائل

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

2387.   حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ ﷺ نے اپنے (آخری) مرض کے دوران میں مجھ سے فرمایا: ’’اپنے والد ابو بکر اور اپنے بھائی کو میرے پاس بلاؤ تاکہ میں ایک تحریر لکھ دوں، مجھے یہ خوف ہے کہ کوئی تمنا کرنے والا تمنا کرے گا اور کہنے والا کہے گا: میں زیادہ حقدار ہوں جبکہ اللہ بھی ابو بکر کے سوا (کسی اور کی جانشینی) سے انکار فرماتا ہے اور مومن بھی۔‘‘