موضوعات
|
شجرۂ موضوعات |
|
ایمان (21744) |
|
اقوام سابقہ (2945) |
|
سیرت (18127) |
|
قرآن (6291) |
|
اخلاق و آداب (9781) |
|
عبادات (51705) |
|
کھانے پینے کے آداب و احکام (4168) |
|
لباس اور زینت کے مسائل (3643) |
|
نجی اور شخصی احوال ومعاملات (6566) |
|
معاملات (9251) |
|
عدالتی احکام و فیصلے (3434) |
|
جرائم و عقوبات (5051) |
|
جہاد (5360) |
|
علم (9478) |
|
نیک لوگوں سے اللہ کے لیے محبت کرنا |
قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی
صحيح مسلم: كِتَابُ فَضَائِلِ الصَّحَابَةِؓ (بَابُ مِنْ فَضَائِلِ عُمَرَؓ)
حکم : صحیح
2395. حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ رَأَيْتُنِي فِي الْجَنَّةِ، فَإِذَا امْرَأَةٌ تَوَضَّأُ إِلَى جَانِبِ قَصْرٍ، فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا؟ فَقَالُوا: لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَذَكَرْتُ غَيْرَةَ عُمَرَ، فَوَلَّيْتُ مُدْبِرًا " قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَبَكَى عُمَرُ، وَنَحْنُ جَمِيعًا فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ عُمَرُ: بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ أَعَلَيْكَ أَغَارُ؟
صحیح مسلم:
کتاب: صحابہ کرامؓ کے فضائل ومناقب
باب: حضرت عمر ؓ کے فضائل
)مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)
2395. یونس نے کہا: ابن شہاب نے انھیں سعید بن مسیب سے خبر دی، انھوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی کہ آپﷺ نے فرمایا: ’’میں سویا ہوا تھا کہ میں نے خود کو جنت میں دیکھا تو وہاں ایک عورت، ایک محل کے جانبی حصے میں وضو کر رہی تھی۔ میں نے پو چھا: یہ کس کا (محل) ہے؟ انھوں نے بتایا یہ عمر خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہے۔ مجھے عمر کی غیر ت یاد آئی تو میں پیٹھ پھیر کر واپس آ گیا۔‘‘ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اس پر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رونے لگے جبکہ ہم اس مجلس میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے پھر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان! کیا میں آپ پر غیرت کروں گا؟