قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

صحيح مسلم: كِتَابُ فَضَائِلِ الصَّحَابَةِؓ (بَابُ تَحْرِيمِ سَبِّ الصَّحَابَةِؓ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2541.   حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: كَانَ بَيْنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، وَبَيْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ شَيْءٌ، فَسَبَّهُ خَالِدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسُبُّوا أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِي، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَوْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا، مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ، وَلَا نَصِيفَهُ»

صحیح مسلم:

کتاب: صحابہ کرامؓ کے فضائل ومناقب

 

کتاب تمہید  (

باب: صحابہ کرام ؓ کو برا کہنا حرا م ہے

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

2541.   جریر نے اعمش سے، انھوں نے ابو صالح سے، انھوں نے حضرت ابو سعید (خدری) رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضرت خالد بن ولید اور عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے درمیان کوئی مناقشہ تھا، حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو برا کہا: تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میرے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین میں سے کسی کو برا نہ کہو، کیونکہ تم میں سے کسی شخص نے اگر اُحد پہاڑ کے برابرسونا بھی خرچ کیا تو وہ ان میں سے کسی کے دیے ہوئے ایک مدکے برابر بلکہ اس کے آدھے کے برابر بھی (اجر) نہیں پا سکتا۔‘‘