قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

صحيح مسلم: كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ (بَابُ خَلْقِ الْإِنْسَانِ خَلْقًا لَا يَتَمَالَكُ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2611.   حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمَّا صَوَّرَ اللَّهُ آدَمَ فِي الْجَنَّةِ تَرَكَهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَتْرُكَهُ فَجَعَلَ إِبْلِيسُ يُطِيفُ بِهِ يَنْظُرُ مَا هُوَ فَلَمَّا رَآهُ أَجْوَفَ عَرَفَ أَنَّهُ خُلِقَ خَلْقًا لَا يَتَمَالَكُ ُ

صحیح مسلم:

کتاب: حسن سلوک،صلہ رحمی اور ادب

 

کتاب تمہید  (

باب: انسان کی پیدائش ایسی ہے کہ وہ (عموما) خود پر قابو نہیں رکھ سکتا

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

2611.   یونس بن محمد نے حماد بن سلمہ سے، انہوں نے ثابت سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب اللہ تعالیٰ نے جنت میں حضرت آدم علیہ السلام کی صورت بنا لی تو جب تک چاہا ان (کے جسد) کو وہاں رکھا۔ ابلیس اس کے اردگرد گھوم کر دیکھنے لگا کہ وہ کیسا ہے۔ جب اس نے دیکھا کہ وہ (جسم) اندر سے کھوکھلا ہے تو اس نے جان لیا کہ اسے اس طرح پیدا کیا گیا کہ یہ خود پر قابو نہیں رکھ سکتا۔‘‘