قسم الحديث (القائل): قدسی اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

صحيح مسلم: كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ (بَابُ طَلَبِ الْكَافِرِ الْفِدَاءَ بِمِلْءِ الْأَرْضِ ذَهَبًا)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2805.   حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لِأَهْوَنِ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا لَوْ كَانَتْ لَكَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا أَكُنْتَ مُفْتَدِيًا بِهَا فَيَقُولُ نَعَمْ فَيَقُولُ قَدْ أَرَدْتُ مِنْكَ أَهْوَنَ مِنْ هَذَا وَأَنْتَ فِي صُلْبِ آدَمَ أَنْ لَا تُشْرِكَ أَحْسِبُهُ قَالَ وَلَا أُدْخِلَكَ النَّارَ فَأَبَيْتَ إِلَّا الشِّرْكَ

صحیح مسلم:

کتاب: منافقین کی صفات اور ان کے بارے میں احکام

 

کتاب تمہید  (

باب: کافر کا اپنے چھٹکارے کے لئے زمین بھر سونے کو طلب کرنا

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

2805.   معاذ عنبری نے کہا: ہمیں شعبہ نے ابو عوان جونی سے، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، انھوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کی کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تبارک وتعالیٰ اس شخص سے، جسے اہل جہنم میں سب سے کم عذاب ہوگا، فرمائے گا: اگر پوری دنیا اور جو کچھ اس میں ہے۔ تمہارے پاس ہوتو (عذاب سے چھوٹ جانے کے لئے) اسے بطور فدیہ دے دو گے؟ وہ کہے گا: ہاں، تو وہ(اللہ تعالیٰ) فرمائے گا: میں نے تم سے اس وقت جب تم آدم علیہ السلام کی پشت میں تھے، اس کی نسبت بہت کم کا مطالبہ کیا تھا کہ تم شرک نہ کرنا۔میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے(آگے یہ) فرمایا۔۔۔اور میں تمھیں آگ میں نہیں ڈالوں گا، مگر تم نے شرک (کرنے) کے سوا ہر چیز سے انکارکردیا۔‘‘