قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: قولی

صحيح مسلم: كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ (بَابُ لَنْ يَدْخُلَ أَحَدٌ الْجَنَّةَ بِعَمَلِهِ بَلْ بِرَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

2813.   حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ عَرْشَ إِبْلِيسَ عَلَى الْبَحْرِ فَيَبْعَثُ سَرَايَاهُ فَيَفْتِنُونَ النَّاسَ فَأَعْظَمُهُمْ عِنْدَهُ أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً

صحیح مسلم:

کتاب: منافقین کی صفات اور ان کے بارے میں احکام

 

کتاب تمہید  (

باب: محض اپنے عمل سے کو ئی شخص جنت میں نہیں جا ئے گا بلکہ اللہ کی رحمت سے جائے گا

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

2813.   جریر اعمش سے، انھوں نے ابو سفیان سے اور انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ’’ابلیس کا تخت سمندرپر ہے۔ وہ اپنے لشکر روانہ کرتا رہتا ہے تاکہ وہ فتنے برپا کریں۔ اس کے نزدیک (شیطنت کے) درجے میں سب سے بڑا وہ ہے جو زیادہ بڑا فتنہ برپا کرے۔‘‘