قسم الحديث (القائل): مرفوع اتصال السند: متصل قسم الحديث: شمائل

صحيح مسلم: كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ (بَابُ جَوَازِ الْجَمَاعَةِ فِي النَّافِلَةِ، وَالصَّلَاةِ عَلَى حَصِيرٍ وَخُمْرَةٍ وَثَوْبٍ، وَغَيْرِهَا مِنَ الطَّاهِرَاتِ)

حکم : صحیح

ترجمۃ الباب:

660.   حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا وَمَا هُوَ إِلَّا أَنَا، وَأُمِّي، وَأُمُّ حَرَامٍ خَالَتِي، فَقَالَ: «قُومُوا فَلِأُصَلِّيَ بِكُمْ فِي غَيْرِ وَقْتِ صَلَاةٍ»، فَصَلَّى بِنَا، فَقَالَ رَجُلٌ لِثَابِتٍ: أَيْنَ جَعَلَ أَنَسًا مِنْهُ؟ قَالَ: «جَعَلَهُ عَلَى يَمِينِهِ، ثُمَّ دَعَا لَنَا أَهْلَ الْبَيْتِ بِكُلِّ خَيْرٍ مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ»، فَقَالَتْ أُمِّي: يَا رَسُولَ اللهِ خُوَيْدِمُكَ ادْعُ اللهَ لَهُ، قَالَ: «فَدَعَا لِي بِكُلِّ خَيْرٍ، وَكَانَ فِي آخِرِ مَا دَعَا لِي بِهِ» أَنْ قَالَ: «اللهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ، وَبَارِكْ لَهُ فِيهِ»

صحیح مسلم:

کتاب: مسجدیں اور نماز کی جگہیں

 

کتاب تمہید  (

باب: نفل نماز کی جماعت اور پاک چٹائی ، جائے نماز اور کپڑے وغیرہ پر نماز پڑھنا جائز ہے

)
 

مترجم: پروفیسر محمد یحییٰ سلطان محمود جلالپوری (دار السلام)

660.   حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کیا، کہا: نبی ﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے وہاں میرے، میری والدہ اور میری خالہ ام حرام کے سوا کوئی نہ تھا، آپﷺ نے فرمایا: ’’کھڑے ہو جاؤ میں تمھیں نماز پڑھا دوں‘‘ (فرض) نماز کے وقت کے بغیر، آپﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی۔ ایک آدمی نے ثابت سے پوچھا: آپﷺنے انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنی کس جانب کھڑا کیا تھا؟ انھوں نے کہا: آپﷺ نے انہیں اپنے دائیں ہاتھ کھڑا کیا تھا۔ پھر آپﷺ نے ہمارے، سب گھر والوں کے لئے دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیوں کی دعا فرمائی، اس کے بعد میری ماں کہنے لگی: اللہ کے رسولﷺ! (یہ) آپ کا چھوٹا سا خدمت گزار ہے، اللہ سے اس کے لئے (خصوصی) دعا کریں۔ کہا: آپﷺ نے میرے لئے ہر بھلائی کی دعا کی اور میرے لئے آپﷺ نے جو دعا کی اس کے آخر میں یہ تھا، آپﷺ نے فرمایا: ’’اے اللہ! اس کا مال اور اس کی اولاد زیادہ کر اور اس کے لئے ان میں برکت ڈال دے۔‘‘