قسم الحديث (القائل): مرفوع ، اتصال السند: متصل ، قسم الحديث: فعلی

‌صحيح البخاري: كِتَابُ الغُسْلِ (بَابُ تَفْرِيقِ الغُسْلِ وَالوُضُوءِ)

تمہید کتاب عربی

حکم : أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة 

ترجمة الباب: وَيُذْكَرُ عَنْ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّهُ غَسَلَ قَدَمَيْهِ بَعْدَ مَا جَفَّ وَضُوءُهُ»

265. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَاحِدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَتْ مَيْمُونَةُ: «وَضَعْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاءً يَغْتَسِلُ بِهِ، فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ، فَغَسَلَهُمَا مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا، ثُمَّ أَفْرَغَ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ، فَغَسَلَ مَذَاكِيرَهُ، ثُمَّ دَلَكَ يَدَهُ بِالأَرْضِ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، وَغَسَلَ رَأْسَهُ ثَلاَثًا، ثُمَّ أَفْرَغَ عَلَى جَسَدِهِ، ثُمَّ تَنَحَّى مِنْ مَقَامِهِ، فَغَسَلَ قَدَمَيْهِ»

مترجم:

ترجمۃ الباب:

ابن عمر ؓ سے منقول ہے کہ انھوں نے اپنے قدموں کو وضو کردہ اعضاء کے خشک ہونے کے بعد دھویا۔اس اثر کو امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب الام میں روایت کیا ہے کہ عبداللہ بن عمرؓ نے بازار میں وضو کیا۔ پھر ایک جنازے میں بلائے گئے تووہاں آپ نے موزوں پر مسح کیا اور جنازے کی نماز پڑھی۔ حافظ نے کہا اس کی سند صحیح ہے۔ امام بخاری  کا منشاءباب یہ ہے کہ غسل اور وضومیں موالات واجب نہیں ہے۔

265. حضرت میمونہ بنت حارث‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کے لیے غسل کا پانی رکھا اور پردہ کر دیا۔ آپ نے اپنے (دائیں ہاتھ سے بائیں) ہاتھ پر پانی ڈالا، پھر اسے ایک یا دو مرتبہ دھویا۔ حضرت سلیمان اعمش کہتےہیں: مجھے یاد نہیں، سالم نے تیسری مرتبہ کا ذکر کیا یا نہیں۔ پھر آپ نے اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا اور اپنی شرمگاہ کو دھویا، پھر زمین یا دیوار سے اپنا ہاتھ رگڑا۔ پھر آپ نے کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، اور اپنے چہرہ مبارک اور ہاتھوں کو دھویا اور سر کو دھویا، پھر بدن پر پانی بہایا۔ اس کے بعد ایک طرف ہٹ کر اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔ بعد ازاں میں نے ایک کپڑا دیا لیکن آپ نے اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ فرمایا اور اس کے لینے کا ارادہ نہیں فرمایا۔